تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 109 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 109

تاریخ احمدیت 109 پہنچ جائے گا۔پس اگر ایک شخص سے چل کر ہماری جماعت کو اتنی ترقی حاصل ہوئی ہے کہ لاکھوں تک ہمارا بجٹ جا پہنچا ہے تو اگر یہ دس پندرہ آدمی نکل جائیں گے تو کیا ہو جائے گا۔ہمیں تو یقین ہے کہ اگر ایک آدمی نکلے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ ہمیں ہزار دے دے گا۔پس ہمیں ان کے علیحدہ ہونے کا کوئی فکر نہیں۔ہم تو چاہتے ہیں کہ یہ صرف نام کے احمدی نہ ہوں بلکہ عملی طور پر بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والے ہوں۔مگر یاد رکھو پردہ سے مراد وہ پردہ نہیں جس پر پرانے زمانہ میں ہندوستان میں عمل ہوا کرتا تھا اور عورتوں کو گھر کی چار دیواری میں بند رکھا جاتا تھا اور نہ پردہ سے مراد موجودہ برقعہ ہے۔یہ برقعہ جس کا آج کل رواج ہے صحابہ کے زمانہ میں نہیں تھا۔اس وقت عورتیں چادر کے ذریعہ گھونگھٹ نکال لیا کرتی تھیں جس طرح شریف زمیندار عورتوں میں آج کل بھی رواج ہے۔چنانچہ ایک صحابی ایک دفعہ کوفہ کی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ پردہ کا ذکر آ گیا اس زمانہ میں برقعہ کی کوئی نئی چیز نکلی تھی وہ اس کا ذکر کر کے کہنے لگے کہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس کا کائی رواج نہیں تھا۔اس زمانہ میں عورتیں چادر اوڑھ کر گھونگھٹ نکالا کرتی تھیں جس میں سارے کا سارا منہ چھپ جاتا ہے صرف آنکھیں کھلی رہتی ہیں جیسے پرانے زمیندار خاندانوں میں اب تک بھی گھونگھٹ کا ہی رواج ہے۔پس شریعت نے پردہ محض چادر اوڑھنے کا نام رکھا ہے اور اس میں بھی گھونگھٹ نکالنے پر زور دیا ہے۔ورنہ آنکھوں کو بند کرنا جائز نہیں۔یہ عورت پر ظلم ہے۔اسی طرح عورت کو اپنے ساتھ لے کر بشرطیکہ وہ پردہ میں ہو سیر کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔میں نے خود حضرت خلیفہ اول سے سنا کہ امرتسر کے سٹیشن پر ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت اماں جان کو اپنے ساتھ لے کر ٹہل رہے تھے کہ مولوی عبد الکریم صاحب بڑے جوش کی حالت میں میرے پاس آئے اور کہنے لگے مولوی صاحب د دیکھئے حضرت صاحب یہاں ٹہل رہے ہیں اور اماں جان ساتھ ہیں آپ جا حضرت صاحب کو سمجھائیں کہ یہ مناسب نہیں۔غیر لوگ سٹیشن پر جمع ہیں اور وہ جلد ۲۰