تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 106
تاریخ احمدیت 106 جلد ۲۰ ذراسی بھی کوتاہی ہوئی تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ آپ نے اپنے وعدوں کو پورا نہیں کیا اور اپنے دعووں کو خود جھٹلا دیا ہے۔اور کافر اسی پر خوش ہوں گے اور خدا تعالیٰ اس پر ناراض ہو گا مگر نہ کافروں کی خوشی دنیوی طور پر آپ کے لئے برداشت کے قابل ہوسکتی ہے اور نہ خدا کی ناراضگی دینی طور پر آپ کے لئے قابل برداشت ہو سکتی ہے۔آپ کی کامیابی اسی میں ہے کہ کافر آپ کی شان و شوکت کو دیکھ کر اور آپ کی خدمت کو دیکھ کر اور (دین حق ) کی اشاعت کو دیکھ کر دل میں کڑھے اور اللہ تعالیٰ آپ کے ظاہر و باطن کو دیکھ کر خوش ہو اور ہمیشہ اس کے فرشتے آپ کی مدد کے لئے اور آپ کی نصرت کے لئے دنیا پر اترتے رہیں۔اور جس شخص کو خدا اور اس کے فرشتوں کی مدد ا حاصل ہو ظاہر ہے کہ وہ اور اس کی قوم ہمیشہ بالا ہی رہے گی۔کبھی نیچی نہیں ہو سکتی۔پس یہ میرا پیغام ہے جو میں آپ کو پہنچا تا ہوں۔امید ہے کہ آپ اس کو توجہ سے سنیں گے اور اس پر عمل کریں گے۔۲۶ سیدنا حضرت حضرت مصلح موعود کی زبر دست مہم اسلامی پردہ کی ترویج کے لئے مصلح موعود نے اپنے مبارک عہد خلافت میں اس عظیم الشان اور مثالی معاشرہ کی تعمیر نو میں بھر پور حصہ لیا جو چودہ صدیاں قبل حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس ہاتھوں سے معرض وجود میں آیا تھا۔آپ نے جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۳۷ء کے موقع پر اپنی اس دلی تمنا کا اظہار فرمایا کہ :- ”ہم میں سے ہر شخص جہاں بھی پھر رہا ہوں دنیا اسے دیکھ کر یہ نہ سمجھے کہ یہ بیسویں صدی میں انگریزوں کے پیچھے پھرنے اور مغربیت کی تقلید کرنے والا ایک شخص ہے بلکہ یہ سمجھے کہ یہ آج سے تیرہ سو سال پہلےمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مدینہ کی گلیوں میں پھر رہا ہے۔۲۷ 66 ازاں بعد مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : - میں نے پہلے بھی بارہا کہا ہے اور اب پھر بڑے زور سے کہتا ہوں کہ دنیا میں مغربیت نے کافی حکومت کر لی اب خدا تعالیٰ کا منشاء ہے کہ وہ مغربیت کو کچل کے رکھ دے۔جو لوگ ڈرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مغربیت کا مقابلہ کس طرح ہو سکتا ہے۔پردہ قائم رہتا ہوا نظر نہیں آتا۔مردوں اور