تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 98
تاریخ احمدیت 98 جلد ۲۰ میں فیصلہ صادر فرمایا۔صدر انجمن احمدیہ کا یہ سالانہ بجٹ ۵۹-۱۹۵۸ء جو ۹۳،۷۰۶، ۱۷ روپے آمد اور اسی قدر اخراجات پر مشتمل تھا یہ پہلا سال تھا کہ تحریک جدید کا بجٹ صدر انجمن احمدیہ پاکستان سے زیادہ تھا۔اس بجٹ (اخراجات ) کی کل رقم ۳۰۰ ،۹۳، ۱۸ روپے تھی جسے حافظ عبد السلام صاحب وکیل اعلیٰ نے پیش کیا اور بتایا کہ سب کمیٹی کو بھی اس سے اتفاق ہے۔نمائندگان کی بھاری اکثریت نے بھی اس کے حق میں رائے دی اور حضور نے بھی از راہِ شفقت اس کی منظوری عطا فرما دی۔کارروائی ختم ہونے پر حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے روح پرور اختتامی خطاب میں پہلے تو اپنی صحت کی صورتحال اور علاج کے بارے میں تفصیل بیان فرمائی اور آخر میں ارشاد فرمایا کہ :- دوست دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے صحت عطا فرمائے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھ لو۔آپ نہ صرف خود نبی تھے بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا بھی تھے۔آپ فرماتے ہیں واذا مرضت فهو يشفين۔جب میں بیمار ہوتا ہوں تو صرف خدا ہی مجھے شفا دیتا ہے۔۱۹۵۴ء میں میرے بچنے کی کیا امید تھی۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ میں ایک دن کا مہمان ہوں۔پھر میں یورپ گیا۔وہاں جا کر علاج سے اتنا فائدہ ہوا کہ میں نے سارے یورپ کا موٹر پر سفر کیا۔پھر واپس آیا تو ۱۹۵۶ء میں مری گئے۔وہاں بھی صحت اچھی رہی۔۱۹۵۷ء میں جابہ گئے۔ابتدائی حصہ سال میں تو اچھا رہا۔لیکن بعد میں میری طبیعت خراب ہو گئی۔۱۹۵۸ء میں بھی خراب رہی۔جولائی ۱۹۵۷ء تک میں کس قدر اچھا تھا۔جولائی تک میں اجابت کے لئے چوکی پر بیٹھ سکتا تھا۔اب سات آٹھ ماہ سے طبیعت خراب ہے لیکن جس خدا نے پہلے شفا دی تھی وہ اب بھی شفا دے سکتا ہے۔اس کے ہاتھ میں شفا ہے۔ڈاکٹر ایک دوائی کے متعلق خاص طور پر زور دیتے ہیں کہ اگر میں اس کے شیکے کروالوں تو اس سے فائدہ ہوگا لیکن میں نے ایک جرمن ڈاکٹر سے مشورہ کیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ آپ منہ کے راستہ دوائی کھا لیا کریں۔ٹیکہ نہ لگوایا کریں۔اس سے فائدہ تو ہوا لیکن مرض ابھی تک گئی نہیں۔اب ٹھنڈی جگہ جائیں گے تو وہاں ٹیکے بھی لگوا لیں گے۔یورپ میں میرا جو معالج تھا اس کے کئی پیغام آچکے ہیں کہ آپ وہ ٹیکے ضرور لگوائیں۔آپ کا علاج وہی ہے۔