تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 99
تاریخ احمدیت 99 ہاں ڈوز (DOSE) چھوٹی کر لیں اور روز ٹیکہ لگوانے کی بجائے ہفتہ میں ایک دفعہ لگوا لیں مگر لگوائیں ضرور۔بہر حال خیال ہے کہ ٹھنڈی جگہ جا کر اس کا تجربہ بھی کر لیں گے۔ایک دفعہ ناصر آباد میں میں نے یہ ٹیکہ کروایا تھا اس سے فائدہ ہوا تھا۔واپسی پر سارے رستہ میں دوست ملتے رہے۔میں نے ان سے مصافحہ بھی کیا اور گفتگو بھی کرتا رہا۔لیکن مجھے کوئی تکلیف محسوس نہ ہوئی۔لیکن بعد میں پتہ نہیں مجھے کیوں یہ وہم ہو گیا کہ اب جو صحت خراب ہوئی ہے تو وہ اس ٹیکہ کی وجہ سے ہوئی ہے۔حالانکہ اس کے بعد رمضان آیا تو میں اس میں بارہ بارہ تیرہ تیرہ بلکہ بعض دفعہ اس سے بھی زیادہ پاروں کی تلاوت کرتا رہا۔ممکن ہے اس سے کوفت ہوگئی ہو۔ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب تو ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ آپ زیادہ پاروں کی تلاوت نہ کیا کریں۔لیکن میں نے اندازہ لگایا کہ قریباً تیرہ پارہ روزانہ اوسط تھی۔ویسے میں نے بعض دنوں میں اس سے بھی زیادہ تلاوت کی ہے۔اس کے علاوہ اور کام بھی ہوتے ہیں مثلاً نماز پڑھنا ، کھانا ، پیشاب اور پاخانہ میں بھی کچھ وقت لگتا تھا۔اس کو نکال لیں تو باقی وقت میں نے کئی روز تک ۱۸-۱۸ پارہ کی تلاوت کی۔پھر دوسرے جماعتی کام بھی کرنے پڑتے تھے۔تندرستی میں میں بعض دفعہ اس سے بھی زیادہ پڑھ لیتا تھا۔بعض دفعہ میں ایک دن میں قرآن کریم ختم کر لیتا تھا۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ ہم راجپورہ شکار کو گئے میرے پندرہ پارے رہ گئے تھے۔میں نے ظہر کے بعد بیٹھ کر شام تک پندرہ پاروں کی تلاوت کر لی۔نماز تراویح میں حافظ ایک پارہ روز ختم کرتے ہیں لیکن میں بعض دفعہ ایک دن میں قرآن کریم ختم کر لیتا تھا۔حافظ لوگ ایک پارہ روزانہ نماز تراویح میں پڑھتے ہیں اور وہ بھی اس طرح پڑھتے ہیں کہ معلوم نہیں ہوتا قرآن کریم کی تلاوت ہو رہی ہے یا کچھ اور ہو رہا ہے۔لیکن ہم تو بڑے آرام سے پڑھتے ہیں۔اور قرآن کریم کے معارف پر غور بھی کرتے ہیں۔چنانچہ اس دفعہ جہاں میں نے بارہ بارہ تیرہ تیرہ پاروں کی تلاوت کی وہاں میں نے تفسیر صغیر میں کئی نوٹ بھی لکھوائے جہاں کوئی ایسی آیت آتی جو اہم ہوتی تو میں اس پر نوٹ لکھوا دیتا۔۲۱ جلد ۲۰