تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 97 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 97

تاریخ احمدیت 97 جلد ۲۰ مل رہا ہے۔مگر پھر جو آپ بار بار مشورہ طلب فرما ر ہے ہیں تو شاید آپ کی مراد ہم انصار سے ہے۔آپ نے فرمایا ہاں۔اس سردار نے کہا یا رسول اللہ شاید آپ اس لئے ہمارا مشورہ طلب فرما ر ہے ہیں کہ آپ کے مدینہ آنے سے قبل ہمارے اور آپ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا اور وہ معاہدہ یہ تھا کہ اگر کسی نے مدینہ پر حملہ کیا تو ہم اس کا مقابلہ کریں گے لیکن مدینہ سے با ہر نکل کر اگر لڑائی کرنی پڑی تو ہم اس میں شامل ہونے کے پابند نہیں ہوں گے۔آپ نے فرمایا ہاں۔اسی انصاری سردار نے کہا یا رسول اللہ جب یہ معاہدہ ہوا تھا اس وقت ہم پر آپ کی حقیقت پورے طور پر روشن نہیں ہوئی تھی۔لیکن اب آپ کی حقیقت ہم پر پورے طور پر واضح ہو چکی ہے۔اور آپ کی شان کا ہمیں پتہ لگ گیا ہے۔اس لئے اب اس معاہدہ کا کوئی سوال نہیں۔ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کی طرح آپ سے یہ نہیں کہیں گے کہ اذهب انت وربك فقاتلا انا ههنا قاعدون۔کہ تو اور تیرا رب جاؤ اور دشمن سے لڑتے پھرو۔ہم تو یہیں بیٹھے ہیں بلکہ یا رسول اللہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔یا رسول اللہ جنگ تو ایک معمولی بات ہے اگر آپ حکم دیں کہ ہم سمندر میں اپنے گھوڑے ڈال دیں تو خدا کی قسم ہم بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنے گھوڑے بھی سمندر میں ڈال دیں گے۔ایک اور انصاری کہتے ہیں کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی لڑائیوں میں شامل ہوا مگر میری ہمیشہ خواہش رہی کہ کاش میں ان لڑائیوں میں شامل نہ ہوتا اور یہ فقرات میری زبان سے نکلتے۔یہ فدائیت اور قربانی کا وہ عظیم الشان نمونہ تھا جو صحابہ نے ہمارے سامنے پیش کیا اور اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اسی قسم کا نمونہ دکھانے کی توفیق عطا فرمائے۔حضور نے ایجنڈا پر غور کرنے کے لئے ۲۹ اصحاب پر مشتمل ایک بجٹ کمیٹی مقرر فرمائی جس کا صدر صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو اور سیکرٹری میاں عبدالحق رامہ صاحب ناظر بیت المال کو مقرر فرمایا۔کمیٹی کی رپورٹ اور اس پر بحث اور آراء شماری کے بعد حضور نے کثرت رائے کے حق