تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 96 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 96

تاریخ احمدیت 96 رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آپ کے پاس بھیجا ہے۔اگر آپ نے اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کے نام کوئی پیغام دینا ہو تو دے دیں۔ہم پہنچا دیں گے۔اس صحابی میں قربانی کی ایسی عظیم الشان روح پائی جاتی تھی کہ انہوں نے کہا اپنا ہاتھ بڑھاؤ اور اقرار کرو کہ تم میرا یہ پیغام میرے عزیزوں تک ضرور پہنچا دو گے۔انہوں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور پیغام پہنچانے کا اقرار کیا اس کے بعد اس صحابی نے جب کہ وہ دم توڑ رہے تھے کہا میرے بیٹیوں ، بھائیوں، بھتیجوں اور دامادوں کو کہہ دینا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ قیمتی چیز دنیا میں اور کوئی نہیں۔جب تک ہم زندہ رہے ہم نے اپنی جانیں خطرہ میں ڈال کر بھی آپ کی حفاظت کی کوشش کی اور اب جبکہ میں مر رہا ہوں میری آخری نصیحت یہی ہے کہ تم اپنی زندگیوں کو قربان کر دو مگر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک کسی دشمن کو نہ پہنچنے دو۔اس طرح غزوہ بدر کے موقع پر انصار نے جس فدائیت کا نمونہ دکھایا ہے وہ بھی ان کے عشق کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے قبل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور انصار کے درمیان یہ معاہدہ ہوا تھا کہ اگر مدینہ پر کسی نے حملہ کیا تو انصار آپ کی حفاظت کریں گے۔لیکن اگر مدینہ سے باہر حملہ کیا گیا تو وہ لڑائی میں شامل ہونے کے پابند نہیں ہوں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ بدر کے لئے تشریف لے گئے تو چونکہ یہ مقام مدینہ سے فاصلہ پر تھا۔آپ نے خیال فرمایا کہ اگر میں نے مدینہ والوں کو دشمن سے جنگ کرنے کا حکم دیا تو یہ ان سے بدعہدی ہوگی۔اس لئے آپ نے تمام صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا آپ لوگ مشورہ دیں کہ اب کیا کیا جائے۔اب قافلہ کا سوال نہیں۔کفار کی مسلح فوج سے مقابلہ ہے۔اس پر ایک ایک کر کے مہاجرین اٹھے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ہم دشمن سے ڈرتے نہیں۔ہم اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔مگر جب کوئی مہاجر اپنے خیالات کا اظہار کر کے بیٹھ جاتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر فرماتے کہ اے لوگو مجھے مشورہ دو۔جب بار بار آپ نے یہ فقرہ دہرایا تو ایک انصاری سردار کھڑے ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ مشورہ تو آپ کو جلد ۲۰