تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 95
تاریخ احمدیت 95 مثلاً ہندوستان میں احمد شاہ ابدالی اور سلطان ٹیپو جیسے غیور مسلمان پیدا ہوئے مگر ان غیور بادشاہوں کے ساتھ غدار بھی ہمیشہ پیدا ہوتے رہے۔چنانچہ پہلی جنگ عظیم میں جب سمرنا میں دشمن نے فوجیں اتاریں اور ایک اسلامی جرنیل کو ان کا مقابلہ کرنے کے لئے کہا گیا۔ان دنوں میں ڈیلی نیوز“ منگوایا کرتا تھا۔اس کے نامہ نگار نے لکھا کہ میں نے میدانِ جنگ میں ایسا درد ناک نظارہ دیکھا ہے جسے میں کبھی بھول نہیں سکتا۔میں نے دیکھا کہ ترک جرنیل جو دشمن کی فوجوں سے لڑ رہا تھا میدان سے ہٹ کر ایک پتھر پر بیٹھا ہے اور رو رہا ہے۔میں نے اس کے رونے کا سبب دریافت کیا تو اس نے کہا ان کارتوسوں کو دیکھو ان میں بارود کی بجائے بورا بھرا پڑا ہے۔میں دشمن کو مار نہیں سکتا۔اگر ان کارتوسوں میں بارود ہوتا تو میں آج دشمن کو شکست دے دیتا لیکن اب میں کچھ نہیں کرسکتا۔غرض جہاں اسلام میں دلیر اور غیور افراد گزرے ہیں وہاں اس میں غدار بھی پیدا ہوتے رہے ہیں۔چنانچہ ان کا رتوسوں میں بارود کی بجائے بورا بھرنے والا کوئی غدار ہی تھا جس نے ایسے لوگوں کو ٹھیکہ دے دیا جنہوں نے کارتوسوں میں بارود کی بجائے بورا بھر دیا۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس قسم کے غداروں سے محفوظ رکھے۔اور ایسے وفا دار لوگ عطا کرے جو اسلام کی خاطر ہمیشہ سینہ سپر رہنے والے ہوں۔اور جن کو اپنی اور اپنے بچوں کی جانوں کی پرواہ نہ ہو۔وہ میدان میں جائیں اور اسلام کی خاطر اپنی جان لڑا دیں۔جنگ اُحد میں جب یہ بات مشہور ہوئی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں تو مسلمانوں کے دل ٹوٹ گئے۔اور شہادت کی خبر سن کر مسلمان سپاہیوں کے قدم اکھڑ گئے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گڑھے میں سے نکالا گیا اور مسلمان پھر آپ کے اردگرد پروانہ وار جمع ہو گئے تو آپ نے ایک انصاری صحابی کو تلاش کرنے کا حکم دیا۔صحابہؓ ان کی تلاش میں نکل گئے۔انہوں نے دیکھا کہ وہ ایک جگہ سر سے پیر تک زخمی پڑے ہیں اور نزع کی حالت میں ہیں۔وہ ان کے پاس گئے اور انہوں نے کہا جلد ۲۰