تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 79
69 محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کا خط بیگ نار ستمبر ۱۹۵۶ سید نا وامامنا ! السلام علیکم ورحمة الله وبركاته حضور کے ارشاد کے ماتحت پرائیویٹ سیکر ٹری صاحب نے خاکسار کو محترمہ عائشہ صاحبہ جنہیں خاکسار تو ذاتی طور پر نہیں جانتا) کے خط کی نقل ارسال کی ہے جو محترمہ مذکورہ نے حضور کی خدمت اقدس میں لکھا ہے۔ان بچوں نے اگر ایسی کوئی بات بھی کہی ہے تو بہت دکھ دینے والی بات ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - خاکسار نے کریمی مولوی عبد المنان عمر صاحب کے امریکہ جانے کے متعلق جو کوشش کی اس میں خاکسار کی نیت اپنے علم کے مطابق سلسلہ کے ایک عالم اور مخلص خادم کے لئے ایک موقع بہم پہنچا نا تھا جس سے وہ خود بھی فائدہ اٹھا سکیں اور سلسلہ کی خدمت کا اس کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ موقع فراہم کر سکیں۔خاکسار کا ان کے متعلق بوجہ ان کے سلسلہ میں وکیل کے عہدہ پر فائز ہونے ، بوجہ حضرت خلیفہ انیس لاقول کا فرزند ہونے اور بوجہ اس کے کہ اپنے بھائیوں میں صرف اکیلے وہی علمی مذاق رکھتے ہیں اور علم کا اکتساب کر سکتے ہیں۔یہی اندازہ اور اور یہی محسن ظن تھا جو خاکسار نے لکھا ہے ان امور کا جو ان کے چھوٹے بھائی کے متعلق جو بعد میں ظاہر ہوئے ہیں یا جن کا ذکر محترمہ عائشہ صاحبہ کے خط میں ہے خاک رکو نہ علم متھانہ اندازہ۔ممکن ہے کہ مگر می مولوی عبد المنان عمر صاحب بھی ان امور میں ملوث ہوں خاکسار کو اس کا بھی کوئی علم اس سے زائد نہیں۔جو اشارہ حضور نے کوہ مری سے ارسال کر وہ اپنے والا نا مے میں فرمایا تھا بوجہ مرکز سے باہر ہونے کے موجودہ فتنہ کے متعلق خاکسار کا علم انہیں امور تک محدود ہے جو الفضل میں شائع ہوئے ہیں ان امور کی تفتیش حضور کے ہاتھ میں اور حضور کے ارشاد کے ماتحت اور حضور کی ہدایات کے مطابق حضور کے خدام کے ہاتھوں میں ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل درسم سے حضور کی ذات مبارک اور سلسلہ عالیہ کو ہر قسم کے خطرہ پریشانی اور ابتلا سے محفوظ رکھے آمین۔جو امر حضور کے نزدیک پایہ ثبوت کو پہنچ جائے اس کے مطابق حضور کے خدام کا عمل پیرا ہونا بھی عین سعادت اور تقاضائے عہد و اطاعت وفرماں برداری ہے لیکن جب تک کسی امر کا انکشاف نہیں ہوا تھا اور کوئی ایسی بات ظہور میں نہیں آئی تھی اس وقت جن خدام کا عمل