تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 66
۶۶ جناب صاحبزادہ عبدالواسع عمر صاحب کی اسیدنا حضرت خلیفہ ایسی الاول کے پوتے اور المسیح ا بزرگان سلسلہ سے خط و کتابت اور ملاقات مولوی عبد السلام صاحب عمر مرحوم کے بڑے صاحبزادے میاں عبدالواسع صاحب عمرا اپنے سب بھائیوں سے زیادہ تعلیم یافتہ اور اچھی گہری طبیعت کے مالک تھے۔آپنے حضرت مصلح موعود کے ابتدائی پیغامات پڑھ کر ۲۰ جولائی تہ کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب کو الگ الگ مکتوبات لکھے جن میں اپنے چچا میاں عبدالوہاب صاحب ر " عمر کی بریت پر زور دیا۔بعد ازاں ۳ اگست شراء کو خود ربوہ تشریف لائے اور صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب کے ساتھ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی خدمت میں پہنچے۔صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب نے کہا کہ انہیں میں نے بھی سمجھایا ہے۔آپ بھی سمجھائیے تا شاید مولوی عبد السلام صاحب عمر کی اولاد ہی بچ جائے حضرت میاں صاحب نے انہیں کسی پیار اور محبت سے سمجھانے کی کوشش فرمائی اس کی تفصیل آپ کے ہی قلم سے درج کی جاتی ہے۔جب میں نے عبدالواسع سے بات کی رہیں نے اسے یہ نہیں بتایا کہ اس کا خط میر سے پاس پہنچ چکا ہے) تو اس نے اپنے چچا عبد الوہاب کی طرف سے بریت شروع کر دی۔میں نے اسے کہا کہ پورے علم کے بغیر تمہارا اپنے چچاؤں کی طرف سے از خود بریت کا اظہار کرنا ایک غلط طریق اور ناواجب پاسداری ہے۔عبدالواسع نے کہا میرے سامنے چھا عبد الوہاب تے کوئی بات حضرت صاحب کے خلاف نہیں کی۔میں نے کہا یہ کوئی دلیل نہیں۔کیا تمہارے چچا کے سارے اقوال اور سارے افعال تمہارے سامنے ہیں کہ تم اس کی بریت کرنے لگے ہو ؟ تم اپنے چچا کے معاملہ کو چھوڑو اور خود اپنی بات لو۔اگر تمہارا اپنا دل صاف ہے اور تم پیچھے دل سے خلافت پر ایمان لاتے ہو اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی بعیت میں نیک نیتی سے شامل ہو تو تم اپنی برتیت پیش کرو۔یا زیادہ سے زیادہ تم اپنے چھوٹے بھائیوں اور بہنوں کی طرف سے بول سکتے ہو۔اس کے بعد عبدالواسع نے حضور سے ملنے کی غرض سے حضور کی خدمت میں کوئی خط لکھا اور حب میں نے اس سے پوچھا کہ تم نے کیا لکھا ہے تو اس نے پھر اپنے چچا کی بریت کا ذکر شروع کر دیا۔میں نے اسے پھر سمجھایا کہ یہ طریق بالکل غلط اور ناواجب ہے۔تمہارے چچاؤں کا