تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 67 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 67

46 معاملہ ان کے ساتھ ہے۔تم صرف اپنی طرف سے بات کر سکتے ہو۔اگر تمہارا دل صاف ہے اور تم نیک نیتی سے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو خلیفہ بر حق سمجھتے اور ان کی بیعت میں شامل ہو تو تمہیں اپنی بریت کا حق حاصل ہے۔چھپا کی طرف سے بولنے کا کوئی حق نہیں۔اور میں نے ہر رنگ میں اسے سمجھانے اور نصیحت کرنے کی کوشش کی اس پر وہ کچھ آبدیدہ بھی ہوگیا۔گرکچھ وقت خاموش رہنے کے بعد کہا کہ سچی بات یہ ہے کہ پہلے مجھے حضرت صاحب سے بہت پیار اور اخلاص تھا۔مگر اب مجھے ان سے عقیدت نہیں رہی۔اور ساتھ ہی کہا کہ میں نے اپنے ابا جان مرحوم (مولوی عبدالسلام صاحب عمر ) کے سامنے بھی اپنا یہ خیال ظاہر کر دیا تھا۔میں نے پوچھا کہ پھر تمہارے ابا نے کیا جواب دیا تھا عبدالواسع نے کہا کہ ابا جان نے یہ جواب دیا تھا کہ اگر تم نے کوئی ایسی بات کی یا کوئی ایسا قدم اٹھایا تو پھر میرے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں رہے گا۔میں نے کہا جب تم نے اپنے ابا کی نصیحت نہیں مانی تو پھر بات ہی ختم ہے۔اور عقیدت نہ رہنے کے بعد کوئی سوال باقی نہیں رہتا اس صورت میں تم غور کرو کہ تمہارے ابا اور دادا کی رومیں تمہیں کیا کہتی ہوں گی اس کے بعد وہ کچھ افسردگی کی حالت میں رخصت ہوگیا یہ ہے میاں عبدالواسع عمر صاحب حضرت صاحبزادہ صاحب سے رخصت ہو کہ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں آئے اور حضرت مصلح موعود کی خدمت میں عریضیہ بھیجا جس کا خلاصہ یہ متھا کہ میرے علم کے مطابق خاندان حضرت خلیفہ اول کا کوئی فرد موجودہ فتنہ و سازش میں شریک نہیں۔حضرت مصلح موعود کی طرفے اس کے جواب میں انہیں حسب ذیل مکتوب موصول ہوا۔عزیزم عبد السمع صاحب السلام علیکم درحمہ اللہ آپ کا خط طلا، کوئی فصل اب کے بیان پر نہیں کیا گیا۔اس لئے یہ کہنا کہ ہم نے کوئی ایسی بات نہیں سنی اس سے کوئی فائدہ نہیں۔آپ کی گواہی NEGATIVE ہے اور NEGATIVE گواہی کوئی گواہی نہیں ہوتی۔میرے پاس حلفیہ گواہیاں چند لوگوں کی موجود ہیں له خط حضرت مرزا بشیر احمد۔ریکارڈ خلافت لائبریری ریبوه 51909