تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 65
۶۵ کون مان سکتا ہے کہ اللہ رکھا جیسا زنبیل آدمی جس کے سپرد کوئی اہم کام نہیں سوائے اس کے کہ بعض گھرانوں میں چپڑاسی یا باور چا کا کام کرتا ہے اس نے باوجود اس عشق و محبت کے جو اسے حضرت خلیفہ اول کے خاندان سے معنی اماں جی جو جولائی یا اگست میں فوت ہوئی نھیں ان کی تعزیت کا خط مولوی عبد الوہاب کو مارچ کے آخر یا اپریل کے شروع میں لکھا اور مولوی عبدالوہاب صاحب نے اس کا جواب ۱۳ اپریل کو دیا اور تعزیت کے مضمون سے بالکل بے تعلق خط کے آخر میں یہ بھی لکھ گئے کہ کوہ مری ضرور دیکھئے۔احباب کو معلوم ہے کہ ۱۲۲ اپریل کو میں مری آیا تھا لیکن اس سے پہلے دس یا گیارہ اپریل کو میں نے۔کو کو بھی تلاش کرنے کے لئے مری بھیجا تھا اور اس نے بارہ اپریل کے قریب ربوہ پہنچ کر کو بھٹی اطلاع دی تھی جسے ہم نے پسند کر لیا تھا اور۔۔۔۔۔میاں عبدالمنان کا یار غار ہے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اس سے سُن کر اپنے بھائی کو اطلاع دے دی کہ خلیفہ مسیح مری جانے والے ہیں اور عبد الوہاب کو فوراً یاد آ گیا کہ نو مہینے پہلے آئے ہوئے تعزیت کے خط کا جواب اللہ رکھا کو فوراً دینا چاہیئے اور یہ بات بھی اُن کے دماغ میں آگئی کہ یہ بھی لکھ دیا جائے کہ کوہ مری ضرور دیکھئے کیونکہ اس وقت میرے مری آنے کا فیصلہ ہوگیا تھا اور پہاڑوں پر چونکہ عام طور پر صحت کے لئے لوگ باہر جاتے ہیں اور پیرہ کا انتظام پورا نہیں ہو سکتا اس لئے اللہ رکھا کو تعزیت کے خط کے جواب میں تاکید کردی کہ کوہ مری ضرور دیکھنے اتنے مہینوں کے بعد تعربیت کا جواب دینا اور اس وقت دینا جب کہ میرے مری جانے کا فیصلہ ہو چکا تھا۔خط کے آخر میں یہ بے جوڑ نقرہ لکھ دینا ایک عجیب اتفاق ہے جس کے معنے ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے۔اوّل تو تعزیت کے جواب میں مرمی دیکھنے کا ذکر ہی عجیب ہے پھر ضرور" اور بھی عجیب ہے اور پھر اس وقت یہ تحریک جب میں مری آرہا تھا اور بھی زیادہ عجیب ہے۔مرز امحمود احمد له " سه روزنامه الفضل ربوه ۱۲۰ جولائی ۱۹۵۶ ۶ ص۳۲