تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 64 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 64

ان کے گند ظاہر کرنے کی جتنی کوشش کر سکتے ہو کر د مجھے تو خوشی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے یہ کارروائیاں کروائیں۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام تھا نھیں کو حضرت اماں جان نہیں کبھی تھیں اور گھبرا گئی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھ کر ان کے ہاتھ حضرت خلیفا ول کے پاس بھجوایا تھا۔اور حضرت خلیفہ اول نے ان کو تسلی دی تھی کہ یہ الہام آپ کے لئے برا نہیں ہے۔اس الہام کا مضمون یہ متھا۔کہ جب تک حضرت خلیفہ المسیح الاول اور ان کی بیوی زندہ رہیں گے۔ان کی اولاد سے نیک سلوک کیا جاتا رہے گا۔لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ ان کو ایسا پڑے گا۔کہ ان سے پہلے کسی کو نہیں پکڑا ہو گا۔کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ پچھلے ۴۲ سال میں ہزاروں موقعے آپ کو مخالفت کے ملے لیکن اماں جی کی وفات تک کبھی بھی ننگے ہو کر آپ کو مقابلہ کرنے کا موقعہ نہیں ملا لیکن چونتی دہ فوت ہوئیں خدائی الہام پورا ہونے لگ گیا۔اور اگر خدا کی مشیت ہوئی تو اور بھی پورا ہوگا۔آپ نے لکھا ہے۔کہ آپ کے ہاتھوں ساری میٹھی میٹھی قاشیں کھائی ہیں۔ایک کڑوی بھی سہی۔مگراب چونکہ مسیح موعود کے کلام اور سلسلہ احمدیہ کی حفاظت اور وقار کا سوال تھا۔مجھے بھی جواب دینا پڑا اگر وہ کڑوا لگتا ہے۔تو اپنے آپ کو طاعت کریں یا موت کے بعد حضرت خلیفہ اول کی زبان سے علامت سن لیں کہ میاں عبدالوہاب صاحب کا خط جو انہوں نے اللہ رکھا کے نام لکھا تھا شائع کیا جاتا ہے برادرم - وعلیکم السلام درحمة الله و برکاته گرامی نامه مشتمل بر تعزیت ملا۔جزاکم الله واحسن الجزاء - آپ کے ساتھ تو ہم لوگوں کا بھائیوں کا تعلق ہے۔اس لئے آپ کو صدمہ لازمی تھا۔اس قسم کے حادثات زندگی کی بنیادوں کو ہلا دینے والے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنی خاص مدد کرے آپ کا خط بہت تسلی آمیز ہے۔آپ بعافیت ہوں گے کوہ مری ضرور دیکھئے۔آپ کا بھائی عبدالواب ۱۳۵۶ اس خط کی عبارت سے ظاہر ہے کہ اصل عرض کو چھپانے کی کوشش کی گئی ہے۔کیونکہ یہ خط ۱۳ اپریل ۱۹۵۶ء کا ہے اور اماں جی جولائی یا آخر اگست کے شروع میں فوت ہوئیں۔اس بات کو اه امان جی 4 اور اگست ء کی درمیانی رات کو فوت ہوئی تھیں۔(ادارہ)