تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 63 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 63

۶۳ رکھا بجھے تحقیق کی کیا ضرورت تھی۔اس کے علاوہ اور بھی ثبوت ہیں جو منصہ ظہور پر آجائیں گے قادیان کی باتیں قادیان کے ساتھ ختم نہیں ہو گئیں۔کھار پر آپہنچی ہیں۔کچھ پہنچ جائیں گی لاہور کی باتیں تو مزید بر آں ہیں۔آپ جو کام کر رہے ہیں۔اگر خلیفہ اول زندہ ہوتے۔تو اس سے بھی بڑھ کہ آپ سے سلوک کرتے ہو میں کر رہا ہوں۔ان کی تو یہ کہتے ہوئے وہ زبان خشک ہوتی تھی۔کہ میاں میں تمہارا عاشق ہوں۔۔اور میں مرزا صاحب کا ادنی خادم ہوں کہ جب وہ آپ لوگوں کی یہ کاروائیاں دیکھتے تو اس کے سوا کیا کر سکتے تھے۔کہ آپ پر ابدی لعنت ڈالتے۔آخر وہ ایک نیک انسان تھے۔کیا ان کو نظر نہیں آتا تھا۔اور اب پرانے ریکارڈ دیکھ کر جماعت کو نظر نہیں آئے گا۔کہ جب ان کے لئے غیرت دکھانے والے اپنی ماؤں کے گھٹنوں کے ساتھ لگے ہوئے ریں ریں کر رہے تھے۔اس وقت میں ہیا تھا۔جو تن من دھن کے ساتھ غیر مبائعین کے ساتھ انکی خاطر لڑ رہا تھا۔جنہوں نے ان کی زندگی میں ہی ظاہر اور پوشیدہ ان کی مخالفت شروع کر دی تھی۔اور جیسا کہ حوالوں سے ثابت ہے کہ کہتے تھے کہ مولوی صاحب سترے بہترے ہو گئے ہیں۔اب ان کی عقل ماری گئی ہے۔اب ان کو معزول کر دینا چاہیے یہ سب باتیں نیز صاحب مرحوم نے سنہیں جب کہ پیغامی مقبرہ بہشتی میں گئے ہوئے تھے۔نیز صاحب نوت ہو چکے ہیں۔لیکن اور کئی لوگ زندہ ہیں۔اور اس زمانے کے لٹریچر میں بھی کہیں کہیں یہ حوالے مل جاتے ہیں مجھے تو خدا تعالیٰ نے پہلے ہی بتا رہا تھا۔جیسا کہ الفضل میں وہ خواب چھپ چکی ہے کہ حضرت مسیح موعود کی حفاظت کے لئے میرے بچوں کو اپنی جانیں دینی پڑیں گی۔میرے لئے اس۔ے لئے اس سے بڑھ کہ کوئی سعادت نہیں ہو سکتی۔خواہ یہ جانیں دینا لفظی ہو یا معنوی مجھے حضرت مسیح موعود کے الہام نے اسمعیل قرار دیا ہے۔اور بائیبل میں لکھا ہے کہ اس کے بھائیوں کی تلوار اس کے مقابلہ میں کھینچی رہے گی۔پہلے اسمعیل کا تو مجھے معلوم نہیں لیکن میں اپنے متعلق جانتا ہوں۔کہ جب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت کا سوال پیدا ہوا۔جیسا کہ لاہوریوں کے کیس میں ہوا تھا۔تو میری تلوار بھی تمام دنیا کے مقابلہ میں کھینچی رہے گی۔اور عزیز ترین وجودوں کو بھی معنوی طور پر کڑے ٹکڑے کرنے میں دریغ نہیں کروں گا۔کیونکہ ظاہری تلوار چلانے سے ہم کو اور حضرت مسیح موعود کو روکا گیا ہے اور نہیں بہت رت تعلیم دے گئی ہے خواہ تمہیں کتنی ہی تکلیف دی جائے۔کسی دشمن کا جسمانی مقابلہ نہ کرنا۔ہاں دعاؤں اور تدبیروں سے