تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 766
601 ۶۳۰۰ ٹریکٹ تقسیم کیے ایک ہزار سے زائد افراد تک پیغام حق پہنچایا۔ایک عرب نوجوان در ۲۴ افرین داخل احمدیت ہوئے اور بچوں وغیرہ کو ملا کہ کل ۸۳ افراد کو سلسلہ احمدیہ میں شامل ہونے کی توفیق علمی یه 1 - گولڈ کوسٹ کی جماعت ہائے احمدیہ کا سالانہ جلسہ اس سال بھی ۱۰ راا گولڈ کوسٹ ر مانام مشن ۱۲ جنوری ۱۹۵۷ ء کو منعقد ہوا۔و ر جنوری کو احمدیت کے عشاق مرکز جماعت سالٹ پانڈ میں وارد ہونے شروع ہوئے۔احمدی مردوں درتوں اور بچوں سے بھری ہوئی لاریاں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود اور مختلف دعاؤں کے دلکش زنم کے درمیان دارا لتبلیغ میں اگر رکتیں تو فضا نعروں سے گونج امتی تھی۔فرزندانِ احمدیت کی آمد کا یہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہا۔صبح تک چار پانچ ہزار افراد جمع ہو چکے تھے۔- الحاج مولانا نذیر احمد صاحب بنشر امیر جماعت ہائے احمد یہ گولڈ کوسٹ نے اپنی افتتاحی تقریر میں ان کامیابیوں کا ذکر کیا۔جو خدا تعالیٰ کے فضل سے ۱۹۵۶ء میں حاصل ہوئیں۔ان میں سے اول الذکر احمدی سیکنڈری سکول کماسی کا امدادی فہرست ( tist است ) پہ آنا اور اس کے معین عملہ اور خصوصاً پرنسپل صاحب کا میسر آتا ہے۔ثانی الذکر چیز سویڈرد کے عربی مدرسہ کی عمارت کی تکمیل اور اس کے لیے ایک عربی سکالر کا بطور انچارج میسر آنا ہے۔آپ نے بتایا کہ سویڈرو کے علاقہ کے لوگوں کی متواتر دو سال سے یہ خواہش تھی کہ ان کے بچوں کی عربی اور دینی تعلیم کے لیے ایک عرباسکول کا اجراء کیا جائے اگر چاسکول غیر رسمی صورت میں شروع ہو چکا تھا۔تاہم اس کے لیے نہ لو ضر وری عملہ تھا اور نہ بھی عمارت - یہ دونوں چیزیں بفضل خدا گزشتہ سال کے اختتام تک حاصل ہوگئیں۔ان کامیابیوں کا ذکر کرنے کے بعد آپ نے سال۔واں کی ذمہ داریوں کی طرف جماعت گواڈ کوسٹ کی توجہ مبذول کرائی جس میں اگر امشن کو مضبوط کرنے اور مشن ہاؤس کی تعمیر کی ضرورت۔شمالی علاقہ میں عیسائی مشنوں کی خطرناک سکیم کا مقابلہ وغیرہ کا پروگرام شامل تھا۔آپ نے تفصیل سے بتایا کہ گولڈ کوسٹ کے شمالی علاقہ میں فروغ عیسائیت کے لیے مختلف مشن کیا کیا کوششیں کر رہے ہیں۔اور نہیں ان کو نا کام له الفضل ۱۷ نومبر ۱۹۵۷د مریم