تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 767
607 بنانے کے لیے کس قسم کے مقابلہ کی ضرورت ہے ؟ دوسری تقر یہ وا ( wa) کے علاقہ کے ایک مخلص دوست الحاج معلم صالح صاحب نے کی۔آپ نے اپنے علاقہ کی تبلیغی سرگرمیوں اور جماعت کی حالت کا ذکر کیا۔پھر انشانٹی کے علاقہ کے مبلغ انچارج ملک خلیل احمد صاحب اختر شاہد نے رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ان پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔جن کا تعلق خارق عادت امور سے ہے۔دوسرے اجلاس میں سب سے پہلے حلقہ رکھنی کے چیف رئیں نے اپنے حلقہ کی رپورٹ پیش کی۔بعد ازاں مقامی افریقن مبلغین کے تبلیغ کی اہمیت کے موضوع پر تقریر کی۔آخر می تقریہ کماسی کالج کے وائس پرنسپل سعود احمد خاں صاحب دہلوی نے " احمدی نوجوانوں کو خطاب کے موضوع پر فرمائی اور موثر پیرا یہ میں نوجوانوں کو آگے بڑھنے اور خدمت کا مقدس فریضہ اپنا نصب العین بنانے کی تلقین کی۔دوسرے دن کے پہلے اجلاس میں کماسی احمدیہ کالج کے پرنسپل صاحبزادہ مرزا لمجید احمد صاحب ایم اسے نے نظریہ فرمائی۔جس کا عنوان تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام دین حق کے سالار اعظم ہیں۔آپ کی تقریر کے بعد اسلامی دراثت کے متعلق ایک ریز دلیشن پاس کیا گیا۔جس میں جماعت احمدیہ گولڈ کوسٹ نے یہ فیصلہ کیا۔کہ آئندہ درستہ میں احمدیوں کے بچوں اور بیویوں کو بھی حقدار تسلیم کیا جائے۔اس سے قبل ملک کا ایک معتد بہ حصہ جو آکان قوم سے تعلق رکھتا تھا۔اس حق در اثت سے کلینہ مردم تھا۔اس کے بعد مولوی صالح محمد صاحب فاضل نے مسیح موعود کا بیٹا' کے عنوان پر تقریر کی۔تقریروں کے پروگرام کے بعد جب، احمدیت کے جاں نثاروں کے ایشیار اورہ اخلاص کے عملی مظاہرہ کا وقت آپہنچا تو سٹیج سے مالی جہاد کی صدا بلند ہوئی۔اس آوانہ کا اٹھنا تھا کہ مخلصین جماعت بڑھ بڑھ کر اپنی قربانیاں پیش کر نے لگے۔اور مصری قوم جمع ہو رہی تھیں اور ادھر ایک بزرگ در دو داور دعاؤں ا پرمشتل گیتوں کے ذریعہ حاضرین کے قلوب گرما رہے تھے۔دیکھتے ہی دیکھتے خاصی رقم جمع ہو گئی۔بعدانہ ان مکرم جناب امیر صاحب نے خلافت کی اہمیت اور اس کی برکات پر خطبہ جمعہ دیا۔نمازہ جمعہ سے فارغ ہونے کے بعد مالی قربانی پیش کرنے کا سلسلہ پھر شروع ہوا اس موقعہ پر ۶۸۵ پونڈ جمع ہوئے۔