تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 763
۷۴۸ ارہ ر کھتے ہیں اور ان کے ذریعہ سے مشرقی افریقہ کے لوگوں اور اُن کے خیالات کو متحد کیا جا سکتا ہے۔کینیا کے وزیر بے محکمہ مسرمان ( MR۔MADAN) نے لکھا مجھے افسوس ہے کہ یکی اس تقریب میں شامل نہیں ہو سکوں گا۔تاہم میں آپ کی اور آپ کی جماعت کی کامیابی کے لیے دعا کرتا ہوں میری دعا ہے کہ آپ کی تعلیم کے ذریعہ انسانوں میں باہمی مفاہمت پیدا ہو۔حقیقی رواداری اور آپس میں مل بیٹھنے کا جذبہ پیدا ہو۔لوگ لڑائی جھگڑے کی بجائے باہمی الفت میں محلہ ہوں ان میں حقیقی برادرانہ محبت پیدا ہو جو کہ میرے ناقص خیال میں تمام خدا پر ایمان لانے والوں کو پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اس پر عمل کرنا چاہیے۔خدا تعالیٰ کی رحمت بے پایاں آپ کی رہنمائی کرے تا آپ دکھی مخلوق میں امن اور قناعت پیدا کرنے کی کوششوں میں کامیاب ہوں۔ان تمام معاملات میں کہیں آپ کی عظیم الشان کا میانی کا خواہاں ہوں۔یوگنڈا کے وزیر مواصلات مسٹر ناتھ مینی (MR،NATH MAINI) نے اپنے پیغام میں کہا :۔اس بابرکت موقع پر میں آپ کو اپنا مخلصانہ سلام اور دلی جذبات پیش کرتا ہوں کامل میں اس موقعہ پر قریب تر ہوتا اور اس میں شامل ہو سکتا میری دعا ہے کہ یہ خدا کا گھر جو آپ نے تعمیر کیا ہے اس طبعی تڑپ کو پورا کرنے والا ہو۔جو حق کی تلاش کے لیے ہر نسل اور ہر مذہب کے انسان میں ودیعت کی گئی ہے۔مشرقی افریقہ کے ریلویز اینڈ ہاربر نہ ) RAILWAYS AND HARBOURS) کے جنرل مینجر مرار نظر کر بی نے تحریر فرمایا : - مضبوط مذہبی عقاید اور مخلصانہ مذہبی اعمال کسی بھی جماعت اور کی تنخور مندی کے لیے نہایت اہم ہوتے ہیں یہ عبادت گاہ جو آپ نے نہ صرف احمدیوں کی مذہبی اور مجلسی بہبود کے لیے بنائی ہے بلکہ ہر مذہب کا پیرو اسے عند الضرورت استعمال کر سکتا ہے، اس کا ایک منہ بولتا نشان ہے۔ساحلی علاقہ کے مسلمان حاکم شیخ مبارک علی خادمی صاحب نے لکھا:۔میں دعا کرتا ہو ا کہ خدا تعالیٰ اس کام میں برکت ڈالے اور آپ کو عظیم انشان ذمہ داریاں ادا کرنے میں کامیاب کرے ہے شده در نامه الفضل ربوه ۳ ، مئی ۱۹۵۷، ص ۳ !