تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 762 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 762

رٹوک عبادت بجالا سکتا ہے اس تقریب کا ترجمہ اردو اور انگریزی زبان میں حاضرین تک پہنچی ماگیا۔کارروائی کا آغانہ قرآن مجید کی تلاوت سے ہوا جو ایک غیر احمدی عالم دین شیخ ، حمد عنان صاحب نے نہایت خوش الحانی سے کی۔ازاں بعد جماعت احمدیہ دار السلام کے سیکر ڈی سید محمد سر در شاہ نما حب ایم اے نے انگریزی زبان میں مختصر طور پر پروگرام کی تفصیل بتائی۔پھر مکرم سید محمد اقبال شاہ صاحب آن نیروبی نے تمام پیغامات پڑھ کر سناتے ہو مقامی افسران اور احباب کی طرف سے موصول ہوئے تھے۔یا بیرونی جماعتوں اور مشنوں نے بھجوائے تھے۔سب سے پہلے سیدنا الصلح الموعود کا تار منایا گیا نہں میں حضور نے اس کا نام بہیت سلام تجویز فرمایا تھا۔گورنر صاحب ٹانگ انیکا کے پرائیویٹ سیکر ٹری نے لکھا۔سزا کیسی لنیسی نے مجھے ہدایت کی ہے کہ ان کی طرف سے دار السلام میں نئی مسجد کے انتقارح کے موقعہ پر خوشی کے جذبات آپ تک پہنچا دوں۔یوگنڈا کے قائم مقام گورنر صاحب کا پیغام :- میں آپ کو اور آپ کی وساطت سے آپ کی نام جماعت کو مبارکباد دیتا ہوں جو لوگ اس مسجد کو استعمال کریں گے اُن تک بھی میرے خوشی کے جذبات پہنچا دیجئے۔کینیا کو لونی کے گورنر صاحب کا برقیہ۔دار السلام میں آپ کی نئی مسجد کے افتتاح کے وقع پر آپ کو اور آپ کی مقامی جماعت کو جے ہو بیٹی اپنی وفادار رتایا میں سے شمار کرنے میں خوشی محسوس کرتی ہیں نہایت گرم جوشی سے مبارکباد دیتا ہوں۔نیروبی کے میٹر صاحب کا پیغام :- افتتاح کے دفع پر مخلصانہ جانہ بات بھجوانے میں مجھے بہت خوشی محسوس ہورہی ہے۔جماعت احمدیہ کا ایمان اور ان کی دعائیں اس امر کی ضامن ہیں کہ یہ نئی عمارت ان کی رومانی تقویت کا باعث ہو گی اور دوسرے لوگوں کے لیے ان تمام عمدہ تعلیمات کا منبع اور مرچیمہ ہوگی جو اسلام سکھاتا ہے اور مین کے ذریعہ قوموں میں امن اور صلح قائم ہوتی ہے۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ نیریہ بی کے احمدی اور اُن کے اخباب اس امید کے اظہار میں میرے ساتھ مریک ہوں گئے کہ یہ عبادت گاہ صرف انہیں کے لیے مذہبی مرکز نہیں بنے گی بلکہ اس کے ذریعہ سے مختلف عقاید رکھنے والی جماعت کے افراد عمدہ شہریت کے اصول سیکھیں گے جماعت احمدیہ کی مداوا را نہ تسلیم اور جاہ یہ مدردی محلوق ان علاقوں کی زندگی به عمده او این نشان