تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 764 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 764

۷۴۹ خدا کی قدرت : تین سال پیشتر جب ۱۲ دسمبر ۱۹۵۲ ء کو اس بیت الذکر کی بنیاد رکھی گئی تھی تو شہر میں حمدیوں کے خلاف بہت اشتغال تھا۔افریقن شیوخ نے اپنے جاہل مریدوں میں عام تحریک پھیلائی ہوئی تھی کہ احمدیوں پر پھر پھینکے جائیں اور راستہ میں جہاں کہیں احمد می مبلغ یا کوئی اور احمدی ہے۔بچے شور و غل مچائیں اس مخالفت کے پیش نظر بنیادرکھنے کے موقع پر کسی کو دعوت نہیں دی گئی تھی۔اور خاموشی سے دعا کے بعد سنگ بنیاد رکھ دیا گیا۔پولیس کی طرف سے امکانی شرارت کا مقابلہ کرنے کا پورا انتظام موجود تھا۔لیکن درمیان کے عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے اس قسم کا انقلاب پیدا کیا کہ وہی شیوخ جو ہر مجلس میں عزت و احترام کے ساتھ بٹھائے جاتے تھے اب ان پر لوگ آواز سے کہتے تھے اور کولی آن کی بات سنا تو کجا ان کو پاس تھانے کے لیے بھی تیار نہ ہوتا تھا بعض سیاسی حرکات کی وجہ سے مسلمان افریقین اس نتیجے پر پہنچے کہ شیوخ غدار ہیں۔اور افریقیوں کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں میں وجیہ بھی کہ افتتاح کے موقع پر افریقی معززین شوق کے ساتھ شامل ہوئے اور یہ تقریب سید نا حضرت المصلح الموعود کی خاص توجہ اور دیگر بندگان سلسلہ کی دعاؤں سے غیر معمولی طور پہ کامیاب ہوئی۔فالحمد للہ علی ذالک - مقامی پریس نے بھی خاص دلچسپی لی انگریزی اخبارات ٹانگائی کا سٹینڈرڈ سنڈے نیوز۔اور سواحیلی اخبارات MANGAZA اور ZUHRA نے افتتاح سے پہلے اور بعد میں محمدہ نوٹ شائع کیے اور پبلک کو بار بار اس تقریب کی طرف متوجہ کیا۔روزنامہ انگریزی اخبار ٹانگا نبی کا سٹینڈرڈ نے افتتاح کی رپورٹ نہایت شاندار الفاظ میں شائع کی۔اس سے خدا تعالیٰ کے فضل سے حکام اور عوام کے دلوں سے جھوٹے پراپیگنڈے کا اثر زائل ہو گیا۔بہت سے افریقن اصحاب نے بعد میں کہا کہ ہمیں تو بتایا جاتا تھا کہ احمدی نہ کلمہ شہادت پڑھتے ہیں نہ اذان کہتے ہیں اور نہ قرآن پڑھتے ہیں لیکن ہم نے دیکھ لیا ہے کہ یہ سب جھوٹ تھا۔بیت اسلام کے افتتاح کے چار ماہ بعد شیخ مبارک احمد صاحب نے ۲۷ جولائی ۱۹۵۷ء کو بیت احمدیہ جنجہ کا سنگ بنیاد رکھا۔بعد ازاں مختصر نظریہ فرمائی جس کا انگریزی میں ترجمہ جو مہدی عبدالہ من صاحب نے کیا۔چوہدری صاحب موصوف نے اپنے بیٹے کی طرف سے ٥٠٠ شلنگ کا چیک دیا۔اسی طرح ڈاکٹر لے روزنامه الفضل ربوہ ۴ رمٹی ، ۱۹۵ ء صفحہ علم۔