تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 758
۷۴۳ کے طور پر پیش کیں تو یوجنا کے کشف اور سورج اور چاند گرہن کی پیشگوئی کی مانند نظر آتی ہیں۔اپنی تقریر کے دوران ظفر صاحب نے حز قیل نبی کی پیش گوئی بھی پڑھ کر سنائی جس میں یا تبجوج ماجوج کی لڑائی کا ذکر ہے۔جماعت احمدیہ کے نزدیک یا جوج ماجوج سے امریکہ اور روس کے ساتھی لعینی استخادمی بلاک اور سروس اور اس کے ساتھی یعنی کمیونسٹ بلاک مراد ہیں۔اور یہ جنگ بنی نوع انسان کی اپنی بڑھالیوں کا نتیجہ ہے۔پس جماعت احمدیہ کے قیام کی عز من محض یہ ہے کہ بھولی بھی کی مخلوق اپنے خالق حقیقی کی معرفت حاصل کر کے اس کی طرف رجوع کرے تادہ رحیم و کریم اعلیٰ ہستی اپنے بندوں پر آسمان سے رحم نازل فرمائے۔به عجیب اتفاق کی بات ہے اور باعث دلچسپی ہے کہ یہ امن کا پیغام ہمارے مقدس پوپ دوازدہم کے پیغام سے ملتا ہے جس میں انہوں نے بھی دنیا کو آگاہ کیا ہے کہ اگر قومیں ہدایت کے راستہ پرگامزن نہ ہوں گی تو دنیا ایک خطر ناک ہلاکت میں مبتلا ہو جائے گی۔ہم قارئین کی توجہ ایک خاص امر کی طرف دلانا چاہتے ہیں کہ اسلام ہی ایک ایسا غیر عیسائی مذہب ہے جو عیسائیت کے قریب اتہ ہے (قرآن کریم کا بھی یہی دعا ہے کہ عیسائیت ، سلام کے زیادہ قریب ہے) اور قرآن کریم کے بہت سے اصول اور تعلیم تو رات کے مطابق ہے۔اسلام تو رات کے تمام انبیاء کو مانتا ہے۔مسلمان حضرت مریم کو مقدس مانتے ہیں اور یہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام پاک دامن کنواری کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔انجیل کے بعض حصوں کو درست سمجھتے ہیں۔مگر۔۔۔خدا تعالیٰ کے معجزوں کیہ کامل ایمان نہ ہونے کی وجہ سے ہماری تثلیث کے اعلیٰ راز کے سمجھنے سے قاصر ہے۔قدرتی طور پر یہ وہ مسائل ہیں جو عیسائیت اور اسلام کے اتحاد میں ردک ہیں۔مگر کوئی مضائقہ نہیں۔یہ امریم کیتھولک لوگوں کے لیے ہرگز کسی قسم کے تعصب کا مر جب نہیں بنا چاہیے کہم اسلام کی خرومیوں کا اعترات نہ کریں۔اسلام بنی نوع انسان ہیں عالمگیر محبت کا سبق دیتا ہے اور دنیا میں مختلف طبقات کے لوگوں میں حقیقی طور پر امن وسلامتی کا ضامن ہے۔افسوس د کاره اوس مونواس)