تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 742
جماعت احمدیہ کھنڈو ضلع لاڑکانہ کے احمدیوں نے اپنی زمین میں کھنڈو کے ماحول۔انور آباد میں ایک نیا گاؤں آباد کیا جس کا نام حضور نے انور آباد تجویز فرمایا کہ جماعت احمدیہ کا مرکز می رسالہ تنشی الا زمان جسے یکم مارچ رسالت تشجیہ الا زبان کا احیاء ۱۲ کوتین محمود المصلح الموعود نے جاری فرمایا تھا اور جو مار پا ۱۹۲۲ء میں ریویو آن ریجنز میں مدغم کر دیا گیا، خالد احمدیت مولانا ابو العطاء صاحب کی ذاتی کوشش سے یکم جون ۱۹۵۷ء سے دوبارہ جاری ہوا اور مجلس خدام الاحمدیہ مرکزہ تہ کی زیر نگرانی اطفال الاحمدیہ کے ترجمان کی حیثیت سے بہت جلد ترقی کی راہ پر گامزن ہو گیا۔جون ۱۹۵۷ء سے جنوری ۱۹۹۲ تک جن اہل مسلم حضرات نے اس کی ادارت کے فرائض انجام دیئے ان کے نام یہ ہیں۔شیخ خورشید احمد صاحب اسسٹنٹ ایڈیٹر الفضل (آٹھ سال تک مدیر رہے) جناب جمیل الرحمن صاحب رفیق ہی۔ایس سی ، جناب رفیق احمد صاحب ثاقب، جناب عطاء المجیب صاحب راند ایم۔اے۔جناب محمد شفیق صاحب قیصر قریشی، محمد اسلم صاحب، لئیق احمد صا حب طاہر مولوی نصیر احمد صاحب قمر ، عبد الماجد صاحب طاہر، قمر داد و احمد صاحب کھوکھر اور فضیل عیاض احمد حضرت خلیفہ المسح الثانی المصلح الموعود کے ارشاد مبارک پر ] جامعہ احمدیہ کے نئے پرنسپل یکم جولائی ، 19ء کو جامد احمدیہ اور امن المترین کا جامعتہ باہمی الحاق عمل میں آیا اور آپ نے ، جولائی کو سید داؤد احمد صاحب کو اس ادارہ کا پرنسپل مقرر فرمایا کہ سید نا حضرت مصلح موعود نے مدراس کے ہفتہ روزہ آزاد حضرت مصلح موعود کا خصوصی پیغام نوجوان کے بفر عید نمبر کے لیے حسب ذیل پیغام ارسال فرمایا جو ورجولائی ۱۹۵۷ نو کو شائع ہوا۔له الفضل ، نومبر ۱۹۵۷ء م : سه تاریخ شهادت ، اراگست ۱۹۸۵، رٹرینیڈاڈ) کہ سیرت دارد متا نا مثر الجمعیتہ العلمیہ بالجامعة الاحمدیہ ریوه ما سرچ ۶۱۹۷۴