تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 741 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 741

ت درج ذیل مقررین نے خطاب کیا۔جناب بہو اس ریٹائرڈ پریسیڈ لنی مجسٹریٹ (سیرت حضرت مسیح علیہ السلام ) پنڈت دی بل (مہاتمہ بدھ کی تعلیم اور سیرت) کیپیٹھ بھاگ سنگھ - جنرل سیکرٹری سکھ کیوں سنٹر کلکتہ (سوانح حضرت گورو نانک) پر و فیسر اخت را حمد صاحب اختر اور نیوی ایم اے پروفیسر پیٹنہ یونیورسٹی (سیرت حضرت مسیح موعود ) پنڈت اجودھیا پر شاد صاحب بی اسے اپدیشک آریہ سماج روید - قرآن - مذہبی رواداری) مسٹار ڈشیر دین شاه (سوانح حضرت زرتشت) مولانا بشیر احمد صاحب فاضل مبلغ دہلی (سیرت حضرت سری کرشن) ریورنڈ منی سین ربہ ہم سماج کی تقسیم ) مولانا غلام احمد فاضل (سیرت حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ) مولوی عبید الرحمان صاحب ناتی مبلغ مرشد آباد (سیرت حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ) جناب ہو اس صاحب ریٹائرڈ مجسٹریٹ کی تقریر کے بعد مولانا بشیر احمد صاحب نے جناب ڈاکٹر کالی و اس صاحب کو قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ بطور تحفہ پیش کیا۔ڈاکٹر صاحب نے یہ آسمانی تحفہ پور سے ادب و احترام کے ساتھ قبول کیا اور فرمایا کہ کہیں جماعت احمدیہ کا ممنون ہوں کہ انہوں نے یہ اہم کتاب مجھے مطالعہ کے لیے دی۔انہیں چونکہ ایک اور جلسہ میں صدارت کے لیے جانا تھا جلسہ کی بقیہ کارروائی پر وفیسر میرا لالی صاحب چوپڑہ کی زیر صدارت ہوئی تقاریہ کے آخر میں انہوں نے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ لیہ وسلم کو نہایت عمدہ اور دریکی انداز میں خراج عقیدت پیش کیا ہے رونٹی احمدی بستیاں :۔اس سال صوبہ سندھ میں دونئی بستیاں وجود میں آئیں۔ڈاکٹر عبدالقدوس صاحب نے سکرنڈ ضلع نواب شاہ میں اپنی اراضی پر جو تین سو ا۔قادسیه ایکٹر پر مشتمل تھی ایک نیا گاؤں آباد کیا جس کا نام حضرت مصلح موعود نے قادسیہ تجویز فرمایا۔یہ گاؤں قاضی احمد دو سومیل پر واقع ہے اور اس علاقہ میں چانڈیا بلوچ قوم آباد ہے ه بدن به ۱۶ مارچ ۱۹۵۷ در مشر : الفضل اور اپریل ۱۹۵۷ء ص ۶ : ۳ آپ ۲۸ ستمبر ۱۹۸۹ ء کو شہید کر دیئے گئے۔