تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 680
440 اس کے بعد اپنی قوم تھی یمن کے ایک پیشوا جن کے سلسلہ بیعت میں میرے والد صاحب اور میرے دوسرے بزرگ رشته دار بھی منسلک تھے۔علاوہ اس کے کچھ بھیا دار سندھ ممبئی وغیرہ کے دوسرے مسلمان بھی قریب دو لاکھ اشخاص ان کے مرید تھے۔اور میں بھی اپنی پندرہ سولہ سالہ عمر میں ان کو مل چکا تھا۔وہ بیٹی میں ہر سال قریباً آیا کرتے تھے۔اور پیر سائیں جھنڈے والے کے نام سے مشہور تھے۔۱۴۹۵ء کے آخر یا ۱۸۹۶ ء کے اوائل میں میں نے ایک خط بزبان فارسی ان کو لکھا۔کہ ہم تو دنیا دار ہیں اور روحانی آنکھوں سے اندھے ہیں۔اور آپ لاکھوں انسانوں کے پیشوا اور راہنما ہیں۔صاحب بصیرت نہیں۔لہذا آپ طفاً جواب دیں۔کہ یہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مدعی مہدویت مسیحیت اپنے دعوئی میں صادق ہیں یا کا ذب۔اگر آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔اور وہ سچے ہیں۔اور ہم ہدایت سے محروم ہو گئے تو آپ خدا تعالیٰ کے نزدیک اس کے ذمہ دار ہیں۔اندر اگر وہ جھوٹے ہیں اور ہم نے نادانی سے ان کو مان لیا۔تو ہماری گرا ہی کا وبال بھی آپ کے سر پر ہے۔اس کا جواب بعد القاب آداب سوال منفسرہ کے بارے میں انہوں نے مجھے لکھا۔کہ شہادت اول:۔ہمارے سلسلہ کا دستور ہے۔کہ با بین نماز مغرب و عشاء ہم اپنے مرید دں کے ساتھ حلقہ کر کے ذکر اللہ کیا کرتے ہیں۔ایک روز اس حلقہ میں بحالت کشف آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہم نے دیکھا۔توہم نے آپ سے سوال کیا۔کہ یا حضرت یہ شخص مرزا غلام احمد کون ہے۔تو آپ نے جواب دیا " از ماست" شہادت ودم : ہمارے خاندان کا وطیرہ ہے۔کہ بعد از نماز عشاء ہم کسی سے کلام نہیں کرتے اور سو جاتے ہیں۔یہی سنت رسول ہے۔ایکدن خواب میں ہم نے آنحضرت صلعم کو دیکھا۔تو ہم نے سوال کیا۔کہ حضور مولویوں نے اس شخص پر کفر کے فتوے لگا دیئے ہیں۔اور اس کو جھٹلاتی ہیں تو۔آپ نے ارشاد فرمایا " در عشق ما دیوانه شده است شہادت سوم : - ہمارا سلسلہ اور خاندان تہجد گزار ہے۔اس لیے ہم روزانہ رات کو 3 بجے کے بعد اٹھتے ہیں۔اور نماز تہجد پڑھ کر کروٹ پر لیٹے رہتے اور اسی وضو سے صبح کی نماز پڑھتے ہیں کہ یہ بھی سنت رسوں سلطعم ہے۔ایک دن اسی کروٹ لینے کی حالت میں کچھ غنودگی طاری ہوئی۔اور آنحضرت مسلم تشریف فرما ہوئے۔اس وقت ہماری حالت نیند اور بیداری کے درمیان تھی۔تو ہم نے آپ کا دامن پکڑ لیا اور عرض کی یارسول قد