تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 681
474 اب تو سارا ہندوستان چھوڑ عرب کے علماء نے بھی کفر کے فتو سے دیدیئے۔تو آپ نے بڑے جلال میں تین بار ڈیرا کہ فرمایاء هو صادق - هو صادق - هو ما دق یہ ہے سچی گواہی جو ہمارے پاس ہے ہم آپ کی قسم سے سبکدوش ہو گئے۔ماننا نہ مانا آپ کا کام ہے۔ماتم رشید الدین پیر صاحب العلم : اس کے بعد جولائی یا اگست ۱۸۹۶ ء میں میں نے حضرت اقدس کی تحریر ی بیعت کرلی۔خاک اره اسمعیل آدم وله - حضرت عزنانی الکبیر شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ایڈمیری موسس الحکم آپکے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں سلسلۂ بیعت میں داخل ہونے کے بعد کل کا اسمعیل یا لکل بدا، گیا اور حقیقی معنوں میں ابدال ہو گیا۔قابلیت موجود تھی، اخلاص تھا۔اس سلسلہ میں اگر تو تھی کرتا چلا گیا۔اور پھر وہ بیٹی کے سلسلہ کا آدم قرار پایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عاشقانہ رنگ میں اخلاص ہے اور سلسلہ کی خدمت میں انہوں نے بڑی بڑی قربانیاں کی ہیں۔۔۔۔۔۔خلافت ثانیہ کی اول ہی بیعت کر لی مگر بعد میں شیخ رحمت اللہ صاح مرحوم ! اور دوسرے لاہوری احباب کے اثر میں لاہور سے تعلق رہا گھر قادیان سے قطع تعلق نہ کیا نہ نفسیخ بیعت۔بالآخر اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی کہ اصل مرکز سے کامل طور پر وابستہ ہو جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام سے بڑی محبت تھی اور اسی محبت کے اظہار کو خاکسار عرفانی نے بارہا دیکھا۔۱۸۹۸ ء سے مجھے شرف ملاقات نصیب ہوا اور اس تعلق مودت و اخوت میں ہر نئے دن نے ترقی بخشی۔۔۔۔۔۔حضرت سیٹھ صاحب اب کاروباری سلسلہ سے ریٹائر ہو کر سلسلہ کے کاموں میں مصروف ہیں اور جماعت احمدیہ بمبئی کے امیر ہمیں۔حضرت سیٹھ صاحب کے فرزند سیٹھ ہاشم صاحب نے مولانا عبد المالک خان صاحب فاضل مربی سلسلہ عالیہ احمدیہ کراچی کو بتایا کہ ایک دفعہ متعدد علما رتے والد صاحب کو لکھا کہ آپ اکیلے ہوں گے اور ہم سب آپ کو سمجھانے آئیں گے۔آپ نے ان کی اس بات کو منظور کر لیا اور اس طرح بجائے اس سے کہ رہ سمجھاتے خدا نے والد صاحب کے لیے تبلیغ اور اتمام حجت کا مرقعہ پیدا کر دیا اور آپ ل الفضل یکم دسمبر ۱۹۱۳ ء م : سے مکتوبات اصد یہ نمبر نیم متن ۳ د مل۳۰ مرتبہ حضرت عرفان الکبیر مطبوعہ مطبع نظام دکن حیدر آباد دکن۔