تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 664 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 664

۶۴۹ کہ ایڈیٹ اسکم آئندہ اخبار نویسی چھوڑ دے۔اس کا میری طرف سے ایک ہی جواب تھا کہ اس مقدمہ لاٹیبل کے قید کا خون میرے مسلم پر حکومت نہیں کر سکتا۔اور اخبار نویس جیسی محبوب نے چھوڑانے کی یہ دھمکی اور خون پینچ ہے۔آخر خدا نے مجھے کامیاب کر دیا۔دو سرای الجبل لے کا مقدمہ مولوی کرم الدین صاحب ساکن تھیں نے کیا۔اس مقدمہ میں مخالف مسلمان آریہ اور عیسائی اس کے مددگار تھے خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے تو اس آفت سے بچا لیا گر کرم الدین صاحب میرے مقدمہ لائیل میں اپنے دوست سراج الاخبار جہلم کے ضعیف ایڈیٹر کو لے کر جرمانہ کے سزا یاب ہو گئے اور وہ مقدمہ بطور یادگار رہ گیا۔ان الله مع الذين اتقو والذين هم محسنون۔ایڈیٹر الحکم کو تصنیف و تالیف کا شوق رہا۔اور بعض رسالے ایسے وقت میں اس نے لکھے اس کی عمر ۱۸۷۱۷ د سترہ اٹھارہ سال کی تھی مگر افسوس ہے کہ آج ان کی ایک کاپی بھی اس کے پاس نہیں اور نہ دو ملتے ہیں۔سب سے پہلی کتاب اس نے دینیات کی پہلی کتاب کے نام سے شائع کی جس پر دربار بہا ولپور نے اس کے پبلیشر شیخ عبدالرحمن امرتسری کو انعام دیا تھا۔اخبار فیروز کے دفتر میں نشیا عورت کی لائف اور تقویم فیروزی کے علاوہ تثلیت کے رڈ اور ہ د تناسخ میں دو چھوٹے چھوٹے رسالے شائع کئے اور ایک رسالہ امرتسر کی مادی ترقی کا اصلی زریانہ لکھا تھا۔تقاریان اگر حقیقت نماز اسماء الحسنیٰ تفسیر سورۃ بقرہ اور ترجمہ القرآن کے سلسلے میں آٹھ پارے شائع کیسے ایسا ہی آریوں کے رد میں حضرت خلیفۃ المسیح کے حکم سے اصلاح النظر" ایک رسالہ لکھا اور ان کے علاوہ سالانہ جلسہ ۱۸۹۷ ء کی رپورٹ مکتوبات احمدیہ اور سیرت مسیح موعود کو تر تیب دے کر شائع کیا۔آخری بات مجھے افسوس ہے کہ اپنی زندگی بحیثیت ایڈیٹر کے حالات لکھنے میں ہر چند میں نے بہت ہی ، جمال سے کام لیا ہے مگر شاید مسٹر فوق کے نکتہ خیال سے وہ لیے ہو گئے ہوں تاہم میں اپنے عزیز دوست اور ناظرین کشمیری میگزین سے خواستگار معانی ہوں کہ میں ان حالات کے بیان کرنے میں جہاں اپنے بعض BEL یعنی ازالہ حیثیت عرفی