تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 665
۶۵۰ معاصرین کا ذکر کرتا ہوں وہاں مجھے ان سے کسی عداوت کا اظہار مقصود نہیں بلکہ بطور امر واقعہ ان پیش آمده حالات کو لکھ دیا ہے جو میری قلمی زندگی کا ایک جزر ہیں ایسا ہی اگر میں کوئی لفظ سلسلہ کے دوستوں کے متعلق کہیں لکھ گیا ہوں تو اس سے بھی میری عزمن سلسلہ کی تاریخ کا ایک ورق لکھنا ہوتا ہے در نہ اختلاف رائے کبھی تعلقات کو نہیں کاٹ سکتا ہو خدا تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ رسول حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہم میں قائم کیسے ہیں بالآخر میں خدا تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ محض اس کے فضل سے میں اس فلمی جنگ میں اپنا فرض ادا کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور یہی دعا ہے کہ وہ دیانت اور امانت کے ساتھ اس فرض کے ادا کرنے کی توفیق دے جو اس نے اپنی مشیت سے میرے سپرد کیا ہے۔وآخر دعوانا ان الحمد لله ر خاکسار یعقوب علی تراب احمدی اله رب العالمين۔مولانا شیخ محمد اسماعیل صاحب پانی پتی فرماتے ہیں کہ :۔بہ بہ حالات حضرت عرفانی مرحوم نے ۱۹۱۲ ء تک لکھے تھے۔بعد کے حالات بہت ہی مختصر طریقہ یہ ہیں کہ ۱۹۱۴ ء میں حضرت خلیفہ اول کے انتقال کے بعد جب جماعت میں عظیم تفرقہ واقع ہوا تو حضرت شیخ صاحب مرحوم نہایت اخلاص کے ساتھ خلافت ثانیہ سے وابستہ رہے اور محمد للہ اسی پر ان کا خاتمہ ہوا۔۱۹۲۴ ء میں سفر یورپ کے موقعہ پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز شیخ صاحب کو اپنے ہمراہ لے گئے تھے اور مسجد لنڈن کے افتتاح کے موقعہ پر بھی آپ لنڈن میں موجود تھے۔جون ۱۹۳۵ء میں آپ یورپ اور بلاد اسلامیہ کی سیاحت کے لیے روانہ ہوئے اور دو سال تک آپ یورپ کے مختلف ممالک اور بلاد اسلامیہ میں رہے۔آپ نے واپسی پہ اپنا سفر نامہ مشاہدات عرفانی کے نام سے شائع کیا تھا۔اپریل ۱۹۳۲ ء میں سلطنت آصفیہ کی ایک شاہزادی بیگم وقارالامرا ء نے آپ کو سار معے بائیں سو روپے ماہوار تنخواہ پر حیدر آباد لایا اس کے بعد آپ وہیں کے ہو رہے۔یہانتک کہ ہر دسمبر ۱۹۵۷ء کو آپ ملک عدم ہوئے آپ سلسلہ احمدیہ کے سب سے بڑے مؤرخ۔سب سے پہلے صحافی اور به روزنامه الفضل ربوه ما رمئی ۱۹۵۸ء صفحه ۴٫۳ ۵