تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 663
۶۴۸ ذلك فضل الله يوتيه من يشاء والحمد الله على ذالك۔محکم کو اپنے معاصرین سے تو تو میں میں کا موقعہ ان سولہ سال کے اندر بہت سی کم پڑا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ نہیں پڑا۔مذہبی اختلاف کی وجہ سے نہایت گندہ لٹریچر شحنہ ہند کے ضمیمہ نے شائع که نا شروع کیا۔لیکن آخر اس کا انجام وہی ہوا جو ان موری کے کیڑوں کا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود کے الہام کے ماتحت انی مهین من اراد اهانتك کے نیچے وہ ایسا آیا کہ ضمیمه را نه نشسته را المحدیث اور اہل فقہ کے ساتھ الحکم کو کبھی کلمہ حق کے لیے مقابلہ کرنا پڑا اگرا سے شکایت نہیں کہ انہوں نے شحنہ ہند کے منعمیمہ کی تقلید کی ہو۔زمیندار اور وطن سے مقابلہ ہوا ان میں سے وطن محض زمیندار کی وجہ سے نہ یہ الزام آیا۔بالاخر وطن کے قابل ایڈ میر نے نقاش کے پیروں کو سمجھ لیا۔اور اس طریق کو چھوڑ دیا۔زمیندار نے حال میں پھر گالیوں کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا مگر اس کا خاتمہ ایک ضمیمہ نے کر دیا۔پیسہ اخبار سے بھی بارہا اختلاف ہوا۔پیسہ اخبار کی مخالفت کو ہمیشہ ہے اصول پا یا یہ تو اسلامی اخبار و سے مقابلہ کا ذکر ہے۔آریہ اخباروں میں سے پر کائش اور اگر یہ مسافر اور مسافر سے مقابلہ ہوا۔بجز جالندھر کے آریہ مسافر کے پر کائی اور مسافر نے الحکم کے مقابلے میں ہمیشہ شرافت سے کام لیا۔اور اس وقت ایک تمام معاصرین کے ساتھ اس کے تعلقات مذہبی اختلات کو چھوڑا اچھے ہیں الحکم کے ایڈیٹر نے پریس کی اصلاح کے لیے بھی قدم اٹھا یا چنانچہ مسلم پریس ایسوسی ایشن کی تحریک اس نے کی۔اور اس کے متعلق ملک کے مقتدر اختبارات اور مسلم کمیونیٹی کے لیڈنگ مہروں کی را ؤں کو جمع کیا۔معاصرین اور اہل الرائے بزرگوں کو دعوت دے کہ لاہور سے زمیندار نے ایسی تحریک کی چونکہ ہمارا یہ عین مقصد تھا زمیندار کی مجوزہ مسلم پریس ایسوسی ایشن کے لیے قادیان سے وکیل بھیجا گیا۔مگر انوس کہ وہ الیسوسی ایشن ایک ذاتی اعزام کا ذریعہ ثابت ہوئی اور جوتیوں کے چیلنج پر اسر پر اس کا خاتمہ ہو گیا۔ایڈیٹر کی زندگی کا ایک باب اس کی لاٹیبل کے مقدمات ہوتا ہے۔ایڈیر الحسکم پر وہ مرتبہ لائیل کے مقدمات ہوئے ایک مرتبہ امرتسر کے ایک میونسپل کمشنر نے لاہور میں استفادہ کیا جس میں بالا خر خدا تعالی نے ایڈیٹر محکم کو صاف بری کر دیا اس کے ضمن میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بعض دوستوں نے نہیں بلکہ معاصرین نے جن کا نام لینا نہیں چاہتا۔اس وقت میری صلح کرانی چاہی اور شرائط صلح میں ایک ہی شرط تھی