تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 51
۵۱ رہا اکثر حصوں کی طباعت کا خرچ بھی اپنے پاس سے دے رہا تھا یہ وہ دنیا ہے جو نشہ اس با خلف بیٹے کے قول کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے میٹیوں کے لئے مانگی تھی اور اولاد کو خدا کے سیر کرنے کا یہ نتیجہ نکلا کہ حضرت خلیفہ اول کا خاندان جماعت کے روپے پر چلتا رہا اور دنیا کے کاموں میں مشغول رہا لیکن حضرت پر مسیح موعود علیہ السلام کا بڑا بیٹا جماعت سے ایک پیسہ لئے بغیر اس کے اندر قرآن کریم کے خزانے لٹاتا رہا۔یہ فرق ہے آقا کی دعا کا اور غلام کی دعا گیا۔جس کو خدا تعالیٰ نے کہا کہ دنیا میں بہت سے تخت اترے پہ تیرا تخت سب سے اونچا رہا یا اور کسی کو خدا تعالیٰ نے کہا۔کہ یہ محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رونا اور آپ کا شاگرد ہے“۔اور جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے کہا جَرِى اللهِ فِي مُلَلِ الْأَنْبِيَاء له اللَّه کا بہادر تمام نبیوں کے لباس میں۔اور جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے کہا دنیا میں ایک نذیہ آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا مگر خدا سے قبول کرے گا اور بڑے زور اور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا ہے اور حبس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدم سے لے کر آخر تک تمام انبیاء اس کی خبر دیتے آئے ہیں اس کی نظر تو اپنی کوتاہ تھی کہ اس نے اپنی اولاد کے لئے صرف دنیا کی دعا کی جس سے تسکین قلب حاصل نہیں ہوتی لیکن اس کا شاگرد ہیں کا منہ غلامی کا دعوی کرتے کرتے خشک ہوتا تھا اس بلند یا یہ کا تھا اور خدا تعالی کا ایسا مقرب تھا کہ اس نے اپنی اولاد کو خدا کے سپرد کیا یہی وہ سازش ہے جو حضرت خلیفہ اول کی دفات پنجابیوں نے شروع کی تھی چنانچہ مرزا خدا بخش صاحب نے اپنی کتاب عسل مصفی ، میں لکھا تھا کہ بے مثل تھا وہ شاگرد ریعنی خلیفہ اول جو تقویٰ اور طہارت میں ، اپنے استاد یعنی مسیح موعود علیہ السلام سے جا رہ گیا راستہ العلی الکاذبین چنانچہ اس کے انعام میں پیغامیوں نے اسکو کر رکھ لیا اور اس کی کتاب عسل مصفح اخوب بکوائی اور گو اس نے عبد الوہاب کی طرح فوراً معافی مانگنی شروع کر دی مگر نفاق کیا سلہ الہام کے اصل الفاظ " آسمان سے کئی تخت اتر ے پر تیرا تخت سبب اوپر بچھایا گیا یا حقیقة الوحی" مراه طبع اول - تذکره طبع چهارم م۶۴۳ سے تذکره طبع چهارم ست الهام ۰۳ ۲۱۸ : که استنهار ایک غلطی کا از لو صر تذکرہ طبع چهارم تا بقیه :(