تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 642 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 642

کا قیام عمل میں آیا۔اور یہ اپنے گاؤں کی جماعت کے پریزیڈنٹ مقرر ہوئے۔اور ۱۹۳۹ء میں قادیان محبت کرنے تک اس عہدہ پر فائز رہے اس کے علاوہ اپنے گاؤں سے ملحقہ موضع لوہ چپ جماعت کی داغ بیل ڈالی اور وہ موضع بھی انہی کی زیہ امارت رہا ہے۔مو منع جو الی ضلع امرتسر میں بھی انہی کی تحریک سے محید تعمیر ہوئی۔جب یہ شادی پر گئے تو دیکھا کہ گاؤں میں مسلمانوں کی کوئی مسجد نہ تھی انہوں نے اس موضع کے مسلمانوں کو اس گا ڈان میں ایک مسجد تعمیر کرنے کی تحریک کی اور اس مسجد کی تعمیر پر متوقع اخراجات کا نصف خود ادا کیا یہ ۱۶۔حضرت ملک عطاء اللہ صاحب گجرات (دالادت ۱۸۴۸ ۶ اندازاً بیعت ۱۹۰۱ ۶ یا ۹۰۷ و - وفات ۲۲ نومبر ، ۵ ۱۹ ۶) حضرت ملک صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ : - میرے پھوپھا مولوی میر احمد شاہ صاحب یہاں اسلامیہ سکول میں ٹیچر تھے دو اکر حضرت صاحب کی عربی کتابیں پڑھا کرتے تھے۔احمدی نہیں تھے۔میں طالب علم ہی تھا۔ایک دن ان کے پاس بیٹھا تھا۔وہ غالبا نورالحق پڑ ھور ہے تھے میں نے سوال کیا کہ آپ مرزا صاحب کی کتابیں پڑھتے رہتے ہیں۔مرزا صاحب نے ان میں کیا لکھا ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ مرزا صاحب نے اپنی ہر کتاب میں اپنے دعوی کو دہرایا ہے اگر دلائل دیکھیں تو پیش نہیں جاتی۔ان کے یہ الفاظ مجھے پہ اس رنگ میں اثر انداز ہوئے کہ میں حیرت میں پڑ گیا اور خیال کیا کہ اتنا بڑا عالم ہو کر مانتا بھی نہیں اور یہ بھی سمجھتا ہے کہ ان دلائل کا کوئی جواب نہیں یہاں ہسپتال میں دو شخص احمدی تھے ایک میاں امام الدین ہیٹہ کیونڈر اور دوسرے سیاں احمد دین کیونڈر۔میری ان سے گفتگو ہوئی۔اس میں میں قائل ہو گیا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے ہیں تو حضرت مسیح ہرگز زندہ نہیں ہو سکتے۔ہماری برادری میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی غالیا چا نا دہن عائشہ کی شادی ہوئی تھی۔ہمیں اس کے پاس اکثر آیا جا تاکہ تا اور دو ہمیشہ مجھے بیعت کے لیے تحریک کیا کرتی تھی۔ایک روز میں اور اس کا خاوند با روزنامه الفضل ربوده 19 نومبر ۱۹۵۷ ء م ث ا مضمون جناب مسعود احمد صاحب حیلمی ) سے رجسٹر روایات نمبرا صفحہ 9 ،