تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 641
۶۲۶ ۱۵۔میاں عبد الرحیم صاحب عرن پولا (ولادت اندانه ۶۱۸۶۴ - بیعت ۹۴ - ۱۸۹۳ ء - وفات ۲ نومبر ۱۹۵۷ء) آپ " السابقون الاولون" کے مبارک زمرہ میں شامل تھے۔دنیاوی علوم و فنون سے بہرہ ور نہ ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انہیں وہ بصیرت بخشی کہ انہوں نے آسمان روحانیت کے چاند کو اس وقت دیکھا جبکہ وہ پہلی رات کا تھا اور جبکہ اس کو دیکھنے سے بہت سے عالم دفاضل قاصر رہے۔چنانچہ وہ خود بارہا اپنی زندگی میں اپنی اس خوش بختی کو تحدیث نعمت کے طور پر فخر یہ بیان کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر و احسان ہے کہ اس نے باوجوداتی وان پڑھ ہونے کے مجھے امام وقت کو پہچاننے کی توفیق دی۔آپ کا آبائی گاؤں موضع بھائی نگل قادیان سے کوئی تین میل کے فاصلہ پر تھا اور قادیان بوحہ سسرال ہونے کے یہاں اکثر آنا جانا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کی خبر پا کر حضور کی خدمت میں حاضر ہونے لگے اور احمدیت قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی اور پھر جوں جوں زمان گه رتنا گیا احمدیت پر آپ کا ایمان مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا۔بیعت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فیوض وربہ کات سے مستفید ہونے کے لیے فرصت کے دنوں میں فجر کی نمازنہ کے لیے قادیان پہنچ جاتے اور دن بھر قادیان میں نمازیں ادا کرتے اور حضور کے کلمات طیبات سُنتے عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنے گاؤں کو روانہ ہو جاتے آپ کے گاؤں میں سوائے اپنے خاندان کے چند گھروں کی ساری کی آبادی سکھوں پرمشتمل تھی اور گاؤں میں کوئی بیت تھی انہوں نے ابتداء میں تو گھر میں ہی نماز کے لیے جگہ مخصوص کر لی۔لیکن بعد میں باہر گاؤں میں بیت الذکر تعمیر کرنی شروع کر دی۔سکھوں نے مسجد کی تعمیر کو روکنے کی انتہائی کوشش کی لیکن انہوں نے مردانہ دار مقابلہ کیا اور بیت تغیر کریمیں کامیاب ہو گئے اس پر سکھوں نے ان کو گاؤں کے کنویں سے پانی لینے کی ممانعت کر دی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مسجد میں الگ کنواں بنانے کی توفیق بخشی اور اس طرح ان کی کوششوں کے باعث خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کے گاؤں میں جماعت کا التفضل ۱۹/ نومبر ۶۱۹۵۷ ص ۵