تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 635 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 635

۶۲۰ کی وفات کے موقع پر مولوی محمد علی صاحب نے حضرت خلیفتہ ایسے ثانی کی بیعت نہ کی اور لاہور چلے گئے میں نے فوراً بیعت کر لی تھی اور میں نے کہا کہ حضور علیہ السلام کا یہ ارشا در کہ آپ نامور نہ جائیں یہیں رہیں مجھے سچا گیا ہے۔مجھے معلوم نہیں کب لیکن کسی وقت غالباً خلافت اول کے زمانہ میں دارالامان سے امرتسر چلے گئے تھے وہاں مردار لکھبیر سنگھ صاحب المعروف لکھا سنگھ کے مشہور پریس وزیر مہند پریس کے سپر وائزر رہے اور جب تک آپ وہاں رہے مرکز سلسلہ کا بڑا بڑا تمام کام وزیر ہند پریس امرتسر میں ہی چھپتا رہا قاعدہ لیستر نا القرآن اور حضرت پیر منظور محمد صاحب کا قرآن مجید بھی وہیں چھپتا رہا۔خلافت ثانیہ کے دوران واپس تا دیان آگئے اور اچھی شینین لا کہ اللہ بخش سٹیم پر لیس جاری کیا۔- دوران قیام امرتسرمیں سکول سے چھٹیوں کے دلوں میں جب کبھی میں امرتسر جاتا تو دیکھتا کہ آپ جمعہ کے دن خطبہ پڑھتے تھے گویا خطیب بھی رہے۔آپ کے تقومی نیکی سادگی پسیار محبت اور تبلیغی جنون کا یہ حال تھا کہ مسلم غیر مسلم سب آپ کی تعزیت کرتے تھے اور جماعت پر جب بھی مشکل وقت آتا تھا ہمہ دا مشورے دیتے تھے۔جنون و جوش تبلیغ کی دو مثالیں عرض کرتا ہوں۔ا والد صاحب جن دنوں امرتسر میں سیکرٹری تبلیغ ہوا کرتے تھے حضرت بابو فقیر علی صاحب والد ☑ حضرت مولانا نذیر احمد علی صاحب مرحوم امرتسر میں ریلوے سٹینشی ماسٹر تھے ایک دنبہ یوم تبلیغ کے موقع پر یہ دونوں بزرگ اکٹھے تبلیغ کرتے کرتے غنڈوں اور بد معاشوں میں پھنس گئے وہ انہیں دھوکا دیکر ایک ایسی جگہ لے گئے جہاں گلی ختم ہو جاتی تھی۔ان لوگوں نے تبلیغ کننے کے بہانے ان دونوں بزرگوں کو چار پائی پر بٹھا کہ بات چیت شروع کر دی اور فوراً ہر طرف مکانوں کی چھتوں پر ادھر ادھر عور نہیں اور بیچے جمع ہو گئے اور گلی مردوں سے بھر گئی اور مغلظات کی بوچھاڑ ہونے لگی گلی سے نکلنے کا بھی راستہ نہ تھا فرمایا کرتے تھے ہم دُعا میں مصروف ہو گئے چند منٹوں بعد دیکھا کہ امرتسر کا سب سے بڑا دس نمیر کا بدمعاش ہاتھ میں ہنڑ لیے وہاں آگیا اور لوگوں کو گالیاں اور دمکتے دیتا ہوا ہمارے پاس پہنچا اور والد صاحب مرحوم کو مخاطب کر کے فرمایا چوہدری صاحب آپ کہاں ان بد معاشوں میں پھنس گئے ہیں۔چلیں میں آپ کو چھوڑ آؤں اور وہ حاضرین کو گالیاں دیتے ہوئے ہیں وہاں سے نکال کر یال بازار یک چھوڑ گئے۔