تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 636 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 636

۶۲۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رفیق حضرت جمعدار فضل دین صاحب نے بیان فرمایا کہ جن دنوں وہ خود امرتسر میں تھے عاجز کے والد صاحب مرحوم امرتسر میں سیکرٹری تبلیغ تھے ایک دفعہ کسی مکان میں غیر احمدی دوستوں میں تبلیغ کر رہے تھے کرم جمعدار صاحب بھی حاضرین میں موجود تھے۔جب حاضرین نے وفاتِ مین ناصری علیہ السلام پر اتفاق کر لیا اور کسی دوسرے مسئلہ کو شرو ع کرنا چاہا تو وہاں والد صاحب مرحوم نے فرمایا نہیں اس طرح نہیں اگر ہم مانتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں تو کتنے افسوس کی بات ہے کہ کسی نے ۱۴ سو سال میں کسی نے اس بزرگ نبی پر فاتحہ بھی نہیں پڑھی آؤ ہم آج اُن کی روح کے لیے بلکہ دعا کریں چنانچہ والد صاحب نے ہاتھ اُٹھائے اور تمام حاضرین نے مل کر دُعا کی پھر بحث آگے چل لیے قادیان میں آپ نے محلہ بہت اقصٰی میں حضرت مرزا برکت علی بیگ اور مرزا نذیر عسلی بیگ اور مرزا سلام اللہ بیگ اور مرزا منظور سینگ والی گلی میں مکان خرید کر اس پر دوسری منزل تعمیر کی تھی ہم پہلے پانچ بہن بھائی است الرحمن - عطاء اللہ۔عبدالمنان۔عنایت اللہ اور امت المنان امرتسر میں پیدا ہوئے تھے باقی ساری اولاد تا زیان میں پیدا ہوئی۔دوبارہ والد صاحب مرحوم ۱۹۲۸ء کے قریب قادیان تشریف لائے اور پریس کی مشینیں تو ائل انجن سے چلا کرتی تھیں لگائیں بجلی اس وقت قادیان میں نہ آئی تھی۔پولیس پہلے احمد یہ چوک سے ریتی چھلا جانے والی اُس گل کے شروع ہوتے ہی دائیں طرف تھا جو ۱۹۳۰ء کے قریب دارالفضل میں پختہ دو منزلہ وسیع و عریض عمارت تیار کر کے اس میں منتقل کر دیا گیا تھا۔بڑے بھائی جان مکرم محمد عطاء اللہ چو ہدی صاحب جو قادیان کے مشہور کھلاڑی تھے پہلے عطاء اللہ امرتسری کہلاتے تھے مولوی فاضل منشی فاضل اور بنی اسے بی ایڈ بھی پاس کیا کر پریس کا مینجر مقرر کیا گیا تھا اور چھوٹے بھائی جان کرم جناب چوہدری عبد المنان صاحب مرحوم کو کام کا نگران۔۱۹۳۶ ء میں حب عاجز نے میٹرک کا امتحان پاس کر لیا تو پریس کا مینجر مجھے بنا دیا گیا اور ۲۲ اکتو بہ ۱۹۳۸ء تک حب عاجز مشرقی افریقہ کے لیے قادیان سے روانہ ہوا اللہ بخش سٹیم پر یس تاریان کا مینجر رہا۔غیر مطبوعہ تحریر چوہدری عنایت اللہ صاحب احمدی (مورخه ۲۵ نومبر ۱۹۸۳) ۱۳ دارالعلوم غربی بوده