تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 634 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 634

ہیں مولوی صاحب نے اس پر کہا کہ افسوس اب لوگ گراہ ہو جائیں گے اور والد صاحب نے مولوی صاحب کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ دیں اور احمدیت کی طرف تیزی سے بڑھنے لگے۔ایک مسئلہ ابھی صاف نہیں ہوا تھا غالباً وفات مسیح ناصری کا مسئلہ تھا کسی مخالف نے والد صاحب سے کوئی سوال کیا جس کا جواب اُس وقت آپ نہیں جانتے تھے چنانچہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے خدا تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ مسیح تو زندہ آسمان پر ہے پھر دوسر اسیح کیسے آگیا وغیرہ والد صاحب نے بتایا کہ دعا کرتے ایک رات جب سو گیا تو عجیب نظارہ دیکھا ایک نہایت صاف ستھرے خوبصورت کمرے میں پہلے آسمان سے ایک کرسی نازل ہوئی پھر غیب سے ایک نیز نمودار ہوا اور اس کے بعد حضرت محمد مصطفے صل اللہ علیہ و سلم نهایت نورانی جلال کے ساتھ اس کرسی پر جلوہ افروز ہوئے اور سامنے میز پر حضور کے سامنے قرآن کریم ناندل ہوا نہایت قیمتی اور نورانی چیزیں جزوان اور موتیوں کی طرح چمکتے حروف تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پاک کو کھولا اور میرے سوال کا جواب دیا کہ حضرت علی علیہ السلام تو مر چکے ہیں آنے والا آگیا ہے جس سے میری تسلی ہو گئی اور میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ۱۸۹۸ء میں بیعت کر لی۔آپ پہلی مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی قادیان دارالامان تشریف لے گئے تھے۔اور مکرم جناب مرزا محمد اسماعیل صاحب کے ساتھ مل کہ پرنٹنگ پریس کا کام کرتے تھے اُن دنوں صرف ہینڈ پریس پر قادیان میں کام ہوتا تھا بڑا کام تو امرتسر میں استاد نور احمد صاحب کے سپرد کیا جاتا مقا جن کا غالباً اپنا پریس تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد خلافت اصلی کے ایام میں قادیان ہیں پریس کا کام کرتے رہے اور اپنے پریس کا نام حضرت خلیفۃ المسیح اول۔۔۔۔۔۔۔۔سے رکھنے کے لیے عرض کیا۔حضور نے فرمایا اللہ بخش پر میں رکھ لو کسی کے۔س پریس رکھ لو کسی کے کہنے پر کہ حضور یہ تو ان کا اپنا نام ہے حضور نے فرمایا کہ اس سے اچھا نام میرے پاس نہیں میرا تو اگر بس چلے تو سب چیزوں کے نام ہی اللہ تعالی کے نام پر رکھ دوں۔چنانچہ نام اللہ بخش پریس یہ کھا گیا۔۔حبب آخری سفر پر حضور علیہ السلام سفر لا ہور کے لیے تیار ہوئے تو والد صاحب مرحوم نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ حضور مجھے بھی خدمت کے لیے ساتھ لے جائیں حضور نے فرمایا آپ یہیں رہیں لا ہور نہ جائیں آپ خوش قسمت ہیں ہم اشاعت دین کے لیے لکھتے ہیں اور آپ چھاپتے ہیں اس نیک کام میں آپ ہمارے ساتھ شریک ہیں۔والد صاحب مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ جب حضرت خلیفہ المسیح اول