تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 625
۶۱۰ فاصلہ یہ تھا۔میرے والدین سخت حنفی تھے۔بندہ کو امر تسر جناب قاضی سید امیر حسین صاحب مرحوم کے پاس آنے سے احمدیت کا علم ہوا۔بندہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے لیے ماہ رمضان شریف کے آخری عشرہ میں اعتکاف کے ایام میں بہت درعا استخارہ کی۔اور دعا میں یہ درخواست بھی کہ مولیٰ کریم مجھے اطلاع فرما۔کہ میں حالت میں اب ہوں یہ درست ہے یا تو اس وقت حضرت مسیح موعود کا دعوی ہے۔وہ درست ہے۔اس پر مجھے دکھلایا گیا۔کہ میں نماز پڑھ رہا ہوں۔لیکن رخ قبلہ کی طرف نہیں ہے۔اور سورج کی روشنی بوجہ کسوف کے بہت کم ہے۔جس سے تقسیم ہوئی۔کہ تمہاری موجودہ حالت کا نقشہ ہے۔دوسرے روز نماز عشاء کے بعد پھر رد ہو کر بہت دعا کی۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خواب میں فرمایا۔کہ اصل دعا کا مرقت جوف اللیل کے بعد کا ہوتا ہے۔جس طرح بچہ کے رونے پر والدہ کے پستان میں دودھ آجاتا ہے۔اسی طرح پچھلی رات گریہ وزاری خدا کے حضور کرنے سے خدا کا رسم قریب آجاتا ہے۔اس کے بعد بندہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی اختیار کرلی اس کے بعد حضور کی پاک محبت کی برکت سے یہ فائدہ ہوا کہ ایک روز نماز تہجد کے بعد خاکسار سجدہ میں دعائیں کر رہا تھا۔کہ غنودگی کی حالت ہوگئی۔جو ایک کشفی رنگ تھا۔ایک پاکیزہ شکل فرشتہ میرے پاس آیا۔جس کے ہاتھ میں ایک خوبصورت سفید کو زہ پانی سے بھرا ہوا تھا۔اور ایک امحق میں ایک خوبصورت کارد (چھڑی تھی۔مجھے کہنے لگا۔کہ تمہاری اندرونی صفائی کے لیے میں آیا ہوں۔اس پر میں نے کہا۔کہ بہت اچھا۔آپ جس طرح چاہیں صفائی کریں۔چنانچہ اس نے پہلے چھڑی سے میرے سینہ کو چاک کیا۔اور اس کوزہ کے صاف پانی سے اس کو خوب صاف کیا۔لیکن مجھے کوئی تکلیف محسوس نہ ہوئی۔اور نہ ہی خومت کی حالت پیدا ہوئی۔جیب رہ چلے گئے۔تو میں نے خیال کیا۔کہ اب میں نے صبح کی نمانہ ادا کرنی ہے۔اور یہ تمام بدن چیرا ہوا ہے۔نمازہ کسی طرح ادا کر سکوں گا۔اس لیے ہاتھ پاؤں کو ہلانا شروع کیا۔تو کوئی تکلیف نہ معلوم ہوئی۔اور حالت بیداری پیدا ہوگئی۔اس کے بعد نماز فجر ادا کی۔اس کے بعد حضور کی فیض محبت سے بہت روحانی فوائد حاصل ہوئے۔جو قبل اس کے کبھی نہیں ہوئے۔بہت دفعہ مسجد مبارک میں حضور کے ساتھ بائیں طرف کھڑے ہو کر نماز باجماعت ادا کر نے کا اتفاق ہوا۔حضور کی آواز کبھی نہ یادہ دیخی نہیں آتی تھی۔بہت ہی آہستہ تسبیح تحمید کرتے تھے ، بعد فراغت نماز حضور اکثر و فعہ مسجد کے کونہ میں مشرق کی طرف سرخ فرما کہ بیٹھ جاتے۔اور مہمانوں اور دوستوں سے