تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 626 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 626

۶۱۱ فرمایا کرتے تھے۔میں نے اس عرصہ چودہ یا پندرہ سال میں حضور کو کسی سے سخت کلامی یا تند آواز سے گفتگو کرتے نہیں دیکھا۔بلکہ مخالف جاہل نے کبھی بد کلامی سے گفتگو حضور سے کی ہے۔تو حضور نے نرمی اور آرام سے اس کا جواب دیا۔اگر کسی دوست نے عرض کی۔کہ حضور میں نے کچھ نظم بنائی ہے۔اجازت ہو۔تو بیان کروں۔خواہ وہ عرض کرنے والا ایک ناخواندہ آدمی ہی معلوم ہو۔اور وہ نظم خواہ کیسی ہی معمولی سی ہو۔حضور نے کبھی ناپسندیدگی کا اظہار نہیں فرمایا۔گو دوسرے سامعین کیسے ہی ناپسند کرتے ہوں۔اسی طرح اگر کسی نے اپنے خواب اور کشوف یا الہامات سُنانے شروع کیے۔تو آپ نهایت خندہ پیشانی سے سنتے رہتے تھے۔ایک بزرگ جن کا نام میرے خیال میں سید مہر علی شاہ صاحب تھا۔اور بہت سے کشوں اور الہامات کئی کئی اور متواتہ بہت دیر تک سنانے شروع کر دیتے جس سے لوگ اکتا جاتے۔لیکن حضور ان کی دیجونی کے لیے سُنتے رہتے۔اور کبھی کبھی مسکراتے بھی تھے۔بعد میں کبھی کبھی آواز خفیف سے ہنستے بھی تھے۔اور ہمیشہ تمہتم اور خندہ پیشانی سے گفتگو فرمایا کرتے۔کبھی تیوری چڑھا کر گفتگو نہیں فرماتے تھے۔ایک دفعہ بیت اقصی میں حضور نے دوستوں کو نصیحت فرماتے ہوئے فرمایا۔کہ دنیا میں ہر ایک مومن کے دوباپ ہوتے ہیں۔ایک جسمانی اور دوسرا رومانی۔جسمانی باپ تو انسان کو آسمان سے زمین پر لانے کا موجب ہوا۔لیکن دوسرا روحانی باپ پھر نہ مین سے آسمان پر لے جانے کا موجب ہوتا ہے۔چونکہ زمین سے آسمان پر لے جانا ایک عظیم الشان کام ہے۔اسی لیے دوسرے روحانی باپ کا درجہ پہلے روحانی باپ سے زیادہ ہے۔اس اصول کے ما تخت دوسرے باپ کی روحانی اولاد کو آپس میں محبت ، اخوت دوسرے جسمانی بھائیوں سے بڑھ کر کہنی چاہیئے۔چنانچہ میں اس بات کا گواہ ہوں۔کہ حضرت میسج موعود کے زمانہ میں جس قدر احمدی بھائیوں میں آپس میں محبت و اخوت تھی۔اس کی مثال میں نے کسی دوسرے جهانی باپ کے بھائیوں میں نہیں دیکھی۔تمام دوست ایک دوسرے کو بھائی بھائی کر کے بلاتے اور ان کی اس آمرانہ میں ایک بڑی محبت کا بھرا ہوا جام ہوتا۔جو سینوں کے دل کو محبت سے سیراب کر دیتا اور کوئی غریب - ایر۔اعلیٰ۔ادنیٰ کا سوال نہ ہوتا تھا۔- بیتِ مبارک میں بیٹھ کہ حضور مہمانوں کے ساتھ کھانا تناول فرمایا کرتے تھے۔بہت دفعہ حضور