تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 624
4-9 ہیں۔تاکہ صف اول کے بزرگوں کے گزرنے پر صعت دوم کے نوجوان ان کی جگہ لے سکیں۔اور جماعت کی ترتی میں کوئی رخنہ نہ پیدا ہو۔پس میں اس موقعہ پر بڑے دردمند دل کے ساتھ اپنے نوجوان عزیز وں کو تحریک کرتا۔اور ان سے اپیل کرتا ہوں۔کہ وہ صف اول کے خلاء کو پر کرنے کے لیے اپنے اندر دہ اوصاف پیدا کریں۔جو زندہ اپنی جماعتوں کا طرہ امتیاز ہیں۔لینے فرائض کے علاوہ نفلی عبادات میں شعف پیدا کریں اور اپنے دلوں میں تقویٰ کا درخت لگا کر اپنے قلوب کے دامن کو خدا کی رحمت کے ساتھ وابستہ کر دیں حتی کہ الہی رحمت جوش میں آکر انہیں اپنے انوار کا مہبط بنالے مجھے خوشی ہے۔کہ کچھ عرصہ سے کافی احمدی نوجوانوں میں اس طرف توجہ پیدا ہو رہی ہے۔مگر ابھی تک احمدیت کی صف روم اتنی بیدار نہیں ہوئی۔کہ وہ صف اقول کی جگہ لے سکے۔اور ان کا وجود بھٹکتی روحوں کے لیے شمع ہدایت اور سہارے کا کام دے۔پس نوجوانوں کو چاہیئے کہ مزدور اس طرف خاص توجہ دیں کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی جب تک کہ اس کا ہر کچھیلا قدم ہر پہلے قدم سے آگے نہ بڑھے خدا کرے کہ ایسا ہی ہونے اولاد : میجر ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب۔☑ خدیجه بیگم صاحبہ اللہ اللہ بیگم صاحبہ زینب بیگم صاحبه عائشہ بیگم صاحبہ -- آمنہ بیگم صاحبہ خاکسار - مرزا بشیراحمد ۱۰ ربوه لا اہلیہ حضرت ولوی فضل الدین صاحب دلیل) داللہ خانصاحب حضرت مولوی فرزند علی صاحب) اہلیہ محفوظ الحق صاحب علمی راہلیہ مولوی علی محمد صاحب اجمیری) را یہ محمد اسحاق صاحب ابن مولای مفخرالدین ها آن ھو گیاٹ ۱۳ - حضرت مولوی فضل الہی صاحب بھیر دی ولادت قریباً ۵ ۱۸ ء - زیارت نومبر ۱۸۹۱ء بمقام امرتسر بیعت ۹۳-۱۸۹۴ ۶- وفات ۲۵ اگست دوم حضرت مولوی فضل الہی صاحب بھیر دی اپنے خود نوشت حالات و روایات میں تحریر فرماتے ہیں کہ:۔میرا پیدائشی شہر موضوع احمد آباد تحصیل پنڈ دادنخان ضلع جہلم ہے۔جو بھیرہ سے تقریباً چار سیل کے روزنار الفضل ۱۳ جولائی ۱۹۵۷ ء ص ۳