تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 613 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 613

مجسٹریٹ صاحب کو ملا کہ ملزم ایک خدارسیدہ بزرگ ہیں۔ان کا کوئی تصور نہیں۔مجسٹریٹ صاحب نے کہا اگر ملزم واقعی اقرار کر گیا تو میں بھی کم از کم سزا تجویز کروں گا۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب نے اصل واقعہ بیان فرما دیا۔مجسٹریٹ نے بھی معمولی جرمانہ کیا جو بعض معززین شہر نے اپنی گرہ سے ادا کر دیا۔موضع چانگریاں کے تو سکھ جاٹ پاکستان سے منتقل ہو کر قادیان کے پاس موضع مالیا میں مقیم ہوئے وہ ہمیشہ ہی حضرت مولوی صاحب کے پاس زیر نقد ، زیورات اور کاغذات سرکار می بطور امانت رکھا کرتے تھے چنانچہ چوہدری محمود احمد صاحب سابق معلم حلقہ ضلع پونڈہ نے آپ کے حالات زندگی میں لکھاکہ اور غیرمسلم تارکان دولت بھی آجتک مولوی صاحب کو یاد کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔حجب میں قادیان جلسہ سالانہ گیا تو سہر واقف کار مولوی صاحب کا ہی حال پوچھنا تھا " آپ ایک لمبے عرصہ تک اپنے حلقہ چانگریاں کی گیارہ جماعتوں کے امیر رہے۔اور جب بڑھاپا اور کمزوری کے باعث آپ زیادہ دور نہ جا سکتے تھے آپ نے امیر ضلع سیالکوٹ سے درخواست کر کے اس حلقہ کو دو حصوں میں تقسیم کر لیا اس طرح آپ اپنے حلقہ میں مرتے دم تک امیر کے فرائض انجام دیتے رہے یہ ۱۲۔حضرت چوہدری بھائی عبد الرحیم صاحب نومسلم سابق جگت سنگھ لادت ۱۸۷۳ ء بیعت دزیارت ۱۸۹۴ء۔وفات ور جولائی ۱۹۵۷ء) حضرت بھائی عبد الرحیم صاحب کا پہلا نام جگت سنگھ تھا۔والد سر دار چندرسنگھ صاحب رساکن سر سنگھ ضلع لاہور) تھے جن کا تعلق زمینداروں کے ڈھلوں خاندان سے تھا۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی مدیر الحکم تحریر فرماتے ہیں کہ :۔حضرت بھائی صاحب کو ابتدا ہی میں ایک ایسے مذہب کی تلاش تھی جو انسان کو خدا تعالیٰ تک پہنچا سکے آپ کی سچی تڑپ دیکھ کر اللہ تعالی نے سردار فضل حق کے ذریعہ حضرت مسیح موعود کا علم دیا۔سردار فضل حق صاحب بھائی صاحب کی اس تڑپ سے واقف تجھے اس لئے انہوں نے اُن کے سامنے له الفضل مادر جولائی ۱۹۵۷ء ص - الفضل ، ۱ اگست ۱۹۵۷ ء صث : سه حال ضلع امرتسهر سے پہلا نام سردار سندر سنگھ۔آپ نے ۱۸۹۸ء میں اسلام قبول کیا وطن دھرم کوٹ بگر