تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 614
ووه مذہب اسلام کو ایسے رنگ میں پیش کیا کہ جس سے اسلام کو تفوق دوسرے مذاہب پر ظاہر ہو۔اس موضوع پر اکثر دونوں میں تبادلہ خیالات ہوا کرتا تھا اور کئی کئی گھنٹے گزر جایا کرتے تھے۔بالآخر ایک دن حضرت بھائی صاحب نے سردار صاحب کے سامنے ایک معیارہ رکھا اور بطور آخری فیصلہ کے رکھا اور کہا سچونکہ مذاہب تو بے شمار ہیں اور ہر ایک انسان اپنے مذہب کو دوسرے مذہب پر ترجیح دیا کرتا ہے باقی رہا روایات اور قصے کہانیوں کا تذکرہ سو وہ ہر مذہب میں اُس کے پیشواؤں کے متعلق بے شمار پائے جاتے ہیں اس میں کوئی کسی کے پیچھے نہیں رہنا چاہتا اس لئے میرے نزدیک فیصلہ کن تجویز یہ ہی ہو سکتی ہے کہ فی زمانہ جس مذہب میں کوئی بزرگ ایسا پایا جاتا ہو جو خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہوتا ہو اور اُس کی دعا میں سنی جاتی ہوں تو میں سمجھ لوں گا کہ یہی مذہب قابل پیروی ہے۔اس پر سردار فضل حق خاں صاحب نے فورا ہی حضرت مسیح موعود کا اسم مبارک کیا اور پورا پتہ بھی دیا یہ بات ایسی تھی جس نے حضرت بھائی صاحب کے دل کو تسکین دی اس نے اسلام کی عظمت اُن کے دل میں قائم کر دی۔حضرت بھائی صاحب ان دنوں فوج میں ملازم تھے۔اس گفتگو کے دوماہ بعد وہ رخصت لے کر اپنے گھر جارہے تھے تو انہوں نے عزم کر لیا کہ وہ گھر جانے سے پہلے قادیان جائیں گے۔چنانچہ وہ سیدھے قادیان میں آئے۔آٹھ دن تک یہاں قیام کیا۔اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے سینے کو کھول دیا اور آپ سکھ ہوتے ہوئے سلسلہ بہیت میں منسلک ہو گئے۔ان گزشتہ ایام میں حضرت بھائی صاحب نے بہت دعائیں کیں اور سور و کہ خدا تعالیٰ کے حضور التجائیں کیں جن کو خدا تعالیٰ نے قبول فرمالیا الخرمن بھائی ساحب بیعت کر کے اپنے گھر کو چلے گئے ، لہ آپ نے دو مضامین میں اپنے حالات پر روشنی ڈالی ہے جن کا تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے پہلا مضمون : - انسان کو اللہ تعالیٰ کس طرح اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اس کا جواب اور معقول جواب یہی ہے۔این سعادت به در باز و نیست تا نه بخشد خدائے بخشنده! الحکم ۲۱ فروری ۱۹۳۵ء ص۳