تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 540 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 540

۵۲۵ شام تک خدا تعالیٰ کے فضل سے قرآن کا سارا ترجمہ ختم ہو گیا ہے) اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض نوٹوں اور بعض سوالوں کے لیے ابھی اور بھی کچھ وقت لگے گا مگر تین چار مہینے کے اندر اندر سارے قرآن شریف کا ترجمہ ہونا اہلی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتا۔مجھے یاد ہے جب ۱۹۰۵ ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السّلام دہلی گئے توخوا جہ کمال الدین صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب ڈپٹی نذیر احمد صاحب مترجم قرآن کو بھی لنے گئے انہوں نے آکر حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کو منایا کہ ڈپٹی صاحب نے اپنے اردگرد کا غزوں کا ایک بڑا ڈھیر لگا رکھا تھا ایک مولومی بھی انہوں نے ملازم رکھا ہوا تھا اور خود بھی انہیں عربی زبان سے کچھ واقفیت تھی پھر وہ کہنے لگے میں نے بڑی کتابیں لکھی ہیں۔مگر ساری کتابیں ملا کر بھی مجھے اتنی مشکل پیش نہیں آئی مقنی مشکل مجھے قرآن کریم کے ترجمہ میں پیش آئی ہے۔چنانچہ دیکھنے میں نے روی کاغذوں کا ڈھیر لگا رکھا ہے لکھنا ہوں اور پچھاڑتا ہوں اور لکھتا ہوں اور پھاڑتا ہوں۔چنانچہ سات سال انہیں اس ترجمہ کے مکمل کرنے میں لگے گھر میں نے یہ ترجمہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت تھوڑے عرصہ میں کر لیا پہلے آٹھ پاروں یعنی سورۃ العام کے آخر تک کا ترجمہ پہلے ہو چکا تھا اور سورۃ یونس سے کہف تک کا ترجمہ ۳۹ - ۱۹۲۰ء میں ہوا اور آخری پارے کا ترجمہ پچھلے آٹھ دس سالوں میں ہوتا رہا پہلے آٹھ سیپاروں میں سے سورۃ مائدہ کی چند آیتیں رہتی تھیں اسی طرح سورۃ اعراف، انفال اور سورۃ توبہ کا ترجمہ اور آخری چودہ پارے باقی تھے گویا قریبا سترہ پاروں کا ترجمہ انھی رہتا تھا۔ہم ۲۳ اپریل ۱۹۵۶ ء کو ربوہ سے مری گئے تھے پہلے آخر میں پارہ کی چند سورتیں باقی تھیں ان کی ہم تفسیر کرتے رہے اس کے بعد ترجمہ کا کام جون میں شروع ہوا اور اب اگست کا آخر ہے بیچ میں دس دن بخار بھی چڑھتا رہا اور قریبا دس دن مری سے جابہ اور پھر جابہ سے مری اور پھر مری سے ربوہ اور ربوہ سے مری آنے جانے میں لگے اور اس طرح دو مہینے اور کچھ دن رہ جاتے ہیں۔جن میں سارے قرآن کریم کے ترجمے کا کام خدا تعالیٰ کے فضل سے ختم ہو گیا اس ترجمہ کے متعلق لوگوں کی رائے کا اُس وقت پتہ لگے گا جب یہ ترجمہ چھپے گا لیکن میری رائے یہ ہے کہ اس وقت تک قرآن کریم کے جتنے ترجمے ہو چکے ہیں۔ان میں سے کسی ترجمہ میں بھی اردو محادر سے اور عربی محاورے کا اتنا خیال نہیں رکھا گیا جتنا اس میں رکھا گیا ہے۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اُس نے اتنے تھوڑے عرصہ را مشمس العلماء ڈپٹی نذیر احمد دہلوی ولادت ۱۸۳۶ و وفات ۶۱۹۱۲