تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 497 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 497

MAY میں سعی کے لیے گئے یہ حصہ اب گورنمنٹ نے پختہ کر دیا ہے سیمنٹ کا فرش اور اوپر سیمنٹ کے بہت بلند گرڈرز کی چھت۔پہاڑیاں تو برائے نام ہیں اور چند گز سے زیادہ اونچی نہیں۔اس کے سات چکر لگائے اور دعائیں ساتھ ساتھ کرتے رہے۔معلم ساتھ تھا۔بعض لوگ کار میں بھی بیٹھ کر یہ چکر گا رہے تھے وہ غالباً معذور ہوں گے اس کے بعد بال کالے اور عمرہ کیا عبادت کی تکمیل کے بعد کوئی رات کے بارہ بجے کے قریب ہم واپس لوٹے۔صبح کی نمانہ پر ۳ بجے خانہ کعبہ میں ادا کی اور دوبارہ طواف کیا اس کے بعد موٹر میں مٹی اور مزدلفہ اور عرفات کے مقامات دیکھنے گئے اور عرفات کے میدان کے ایک میلہ پر جو جبل رحمت کہلاتا ہے دو رکت نفل بھی پڑھے ان تمام مقامات کو دیکھ کر ۹ ۰ ابجے کے قریب مکہ معظمہ سے واپسی جدہ کے لیے چل پڑے۔· دو پہر جدہ گزار کر شام کے پانچ بجے مدینہ کے لیے روانہ ہو گئے۔ٹکٹ تو ہوائی جہانہ کا تھا۔لیکن اس میں جگہ نہ لی اس لیے ٹیکسی کر دائی یہ لمبا سفر تھا ۲۲۷ کیلو میٹر کا ٹیکسی میں ڈرائیو کے علاوہ صرف ہم دونوں تھے رات کا سفر وحشت و الاضرور تھا۔لیکن یہاں گرمی کی شدت کی وجہ سے صرف علی الصبح بارات کا سفر ہی ہو سکتا ہے ورنہ نہیں۔کوئی پانچ بجے روانہ ہو کر رات کے پڑا 1 بجے مدینہ منورہ پہنچے سڑک یہ بھی اب پختہ ہے اور اچھی قریبا ، انفٹ چوڑی ہو گی۔مکہ معظمہ والی مشرک سے کچھ کم چوڑی ہے ڈیفک بہت کم تھا۔۲۶ کے سفر اور عبادت اور پھر اس لیے سفر اور گرمی کی شدت کی وجہ سے ہم دونوں بہت تھک گئے تھے۔اور نیم بیا بھی۔الحمد للہ سفربخیریت گزرگیا اور راستے ہو ٹل اسلام میں ٹھہرے جو مسجد نبوی کے بالکل ملحق ہے یعنی کوئی۔اگنہ کا فاصلہ ہوگا۔مدینہ منورہ میں صبح گائیڈ لے کر سب سے پہلے مسجد نبوی میں گئے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مصلے پر میں نے دو نفل پڑھے الحمد للہ کہ اس موقعہ پر بھی دعا کی اچھی توفیق نصیب ہوئی اور میں نے لمبی دعائیں کیں دو نفل سے فارغ ہو کر مسجد کے اندر ہی اور مصلی کے بالکل قریب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے روضہ مبارک پر لمبی دعاکی۔اس دعا میں میں نے حضرت صاحب اور آپ کی طرف سے اور اجمالاً خاندان کے تمام افراد کی طرف سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں سلام پیش کیا۔اس موقع پر مستند رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مصلیٰ پر نفل ادا کرتے ہوئے طبیعت میں ہیجان اور