تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 496 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 496

پر ہے۔پوری ٹیکسی کوئی پندرہ ہیں ریال میں ہو جاتی ہے اور ایک پونڈ کے بدلہ کوئی پر ۱۴ ریال مل جاتے ہیں۔شام کو ، بجے ہم روانہ ہوئے سڑک بہت اچھی ہے اور قریبا ۲۰ فٹ چوڑی ہو گی۔پر سجے ہم مکہ معظمہ میں پہنچ گئے۔راستہ میں دس بارہ میل کے فاصلہ پر پولیس کی چوکیاں ہیں جو چیک کرتی رہتی ہیں کہ پہنچ کر سیدھے ہوٹل میں گئے ہوٹل مصر میں جو خانہ کعبہ سے قریب ترین ہے یعنی دو فرلانگ سے بھی کچھ کم ہو گا قیام کیا۔جلدی سے کھانے سے فارغ ہو کر کوئی نو بجے کے قریب ہم خانہ کعبہ میں پہنچے اور طواف شروع کیا یہاں جدہ سے پاکستان نیشنل بنک کے مینجر نے جسے کراچی سے تارہ دلوا دی تھی ہمارے ساتھ اپنا ایک آدمی کہ دیا تھا وہ ہمارے ساتھ تھے ایک مقامی آدمی کو بھی لے لیا جس نے ہمیں طواف کروایا۔اس وقت دل کی عجیب کیفیت تھی دعائیں پڑھتے جاتے تھے اور اس طرح ہم نے سات چکر مکمل کیے۔اس کے بعد مقام ابراہیم پر میں نے دو رکعت نفل پڑھے۔امتہ القیوم بیگم نے زرا ہٹے کو پڑھے۔کیونکہ عورتوں کو اس کے بالکل قریب نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے۔الحمد للہ کہ یہ نقل بڑے رقت سے پڑھنے کی توفیق ملی اور میں نے اسلام اور احمدیت اس کے مبلغین اور پھر حضرت صاحب آپ کے لیے۔اماں کے لیے چھا جان ، کے لیے دونوں پھر بھی جان کے لیے اور اپنے بھائی بہنوں کے لیے نام سے لیکر دعا کی کہ میں نے یہ بھی دعا کی کہ اے اللہ یہ میری انتہائی خوش قسمتی ہے کہ مجھے تو نے اس عبادت کا موقع دیا لیکن مجھے یقین ہے کہ میرے والد کی خواہش مجھ سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے۔لیکن حالات کی مجبوری سے وہ اس کی ادائیگی پوری نہیں کر سکتے لیکن ان کی خواہش کے خیال سے میری اس عبادت میں ان کو بھی شامل کجھیو اپنے لیے اور قیوم کے لیے بھی میں نے بہت دعائیں کیں اللہ تعالٰی سب کو قبول فرمائے آمین۔- یں نے انفرادی دعائیں بھی کیں اور باقی رشتہ داروں کے لیے بھی بھائی جان مرزا عزیز احمد۔باموں جان کے خاندانوں۔حضرت خلیفہ اول کی اولاد کی ہدایت اور اپنے دوستوں کے لیے غرضیکہ سب کے لیے جن کا اس وقت مجھے خیال آسکا دعا کی۔لیکن انفرادی دعاؤں کے علاوہ اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لیے دل میں خاص جوش پیدا ہوتا رہا۔دو نفل کی ادائیگی کے بعد کعبہ کے ملحق حصہ میں دو نفل اور پڑھے اور پھر اس کے معاً بعد مغامردہ