تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 498 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 498

MAF اضطراب بہت تھا جسے میں بیان نہیں کر سکتا۔میں نے خدا کے حضورہ میں یہ عرض کی کہ اللہ ! تو نے اپنا سب سے بزرگ ترین نبی مبعوث کیا اور ایسا شان والا نبی کہ جس کے بارے میں یہ کہا کہ اگر وہ نہ ہوتا تو دنیا و مافیہا پیدا نہ کی جاتی۔لیکن آج اس کی امت انتہائی کسی میرسی کی حالت میں پڑی ہے اور اسے کوئی عزت کا مقام حاصل نہیں وہ نہ صرف یہ نیادی وجاہت سے عاری ہے بلکہ دینی اور اخلاقی طور پر بہت گر چکی ہے اور جو چند افراد اس کے احیاء کے لیے کھڑے ہوئے ہیں دوسرے مسلمان اُن کی دینی کوششوں میں حائل ہوتے ہیں۔اور انہیں ہر طرح گرانے اور نا کام کرنے کے درپے ہیں تو اپنے فضل سے موجودہ تکلیف دہ کیفیت کو جلد تر بذل دے اور اپنے رسول اکرم کی تعلیم اور ان کے دین کو دنیا میں عزت اور وقار کا مقام بخش۔غیر مسلموں کی ظاہری شان و شوکت اور ظاہری اخلاقی برتری کا اندازہ کرتے ہوئے اور مسلمانوں کی موجودہ ابتر حالت سامنے رکھتے ہوئے میں نے بڑے درد اور سوز سے یہ دعا کی اور اس وقت اپنی طبیعت میں پورا پورا جوش پا یا اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر کے ملحقہ روضہ مبارک پر بھی دعا کی۔پشت پر وہ مکان کا حصہ تھا جس نہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کی رہائش رہی تھی۔یہ تمام حصہ ایک جنگلے کے اندر ہے جس میں سوراخ ہیں میں سے وہ دیکھنے کی اجازت دیتے ہیں اس کے بعد ہم موٹر میں بیٹھ کر مندرجہ ذیل مقامات دیکھنے گئے۔- جبل احد اور حضرت امیر حمزہ کی قبر۔یہ مقام مدینہ سے کوئی تین میل کے قریب ہو گا۔دوسرے شہداء کی بھی یہاں قبریں میں اور گائیڈ کے بیان کے مطابق شہادت کے مقام پر ہی یہ سب مدفون ہیں۔مسجد قبلتین۔جہاں قبلہ کی تبدیلی پر ایک ہی مسجد میں ایک دن کی نمازیں مختلف جہت میں پڑھی گئی تھیں۔- مقام غزوہ خندق۔یہ بھی کوئی مدینہ سے دو میل کے فاصلہ پر ہو گا۔وہ پہلی مسجد جو مدینہ منورہ میں تعمیر ہوئی تھی مسجد نبوی تو اب بہت عالی شان بن چکی ہے اور پہلے ترکوں نے اور اب سعودی حکومت نے اس کی توسیع کی ہے لیکن یہ مسجد زیادہ تر پرانی شکل اور اسی رنگ میں رکھی گئی ہے۔۵ - جنت البقیع۔جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعض قریبی عزیز اور صحابہ مدونون ہیں۔یہ چار دیواری کے اندر ہے اور مسجد نبوی کے ساتھ ہے۔بدقسمتی سے یہ اس وقت بند تھی