تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 490 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 490

۴۷۵ خدمت اسلام کا ایک بہت بڑا موقعہ اس زمانہ میں ہے۔جیسا کہ مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی کے زمانہ میں تھا۔یا جیسا کہ حضرت سید احمد صاحب بریلوی اور دوسرے صو نیار اولیاء کے زمانہ میں تھا بلے اس ولولہ انگیز خطبہ جمعہ کے بعد مندرجہ ذیل سات اصحاب کی طرف سے حضور انور کی خدمت میں وقف کی درخواستیں موصول ہوئیں :۔- ١ شیخ جلال الدین احمد صاحب دار البرکات ربوہ ) ۱۰ جولائی ۱۹۵۷ء) -۲- عبدالسمیع صاحب کپور معلومی محله رامپوره پشاور شهر (۱۰ اگست ۶۱۹۵۷ ) اللہ بخش صاحب ضیاء ناظم آباد کراچی ( ۲ اگست۱۹۵۷ء) چوہدری جان محمد صاحب معرفت نشتر میڈیکل کالج ملتان - مکرم طاہر احمد صاحب ہاشمی لالوکھیت کراچی (۱۲۰ اگست ۱۹۵۷ء) مولوی غلام احمد صاحب فاضل بد و مہوی لالیاں متصل ربوه (و راگست ۱۹۵۷ء) ما - سید محمد محسن صاحب الریسہ بھارت - (۱۶ستمبر ۱۹۵۷ء) دفتر پرائیویٹ سیکرڑی کی طرف سے حضور کی ہدایت پر ان اصحاب کو اطلاع دی گئی کہ اس نئی کے تفصیلات کے اعلان کا انتظار کریں علاوہ ازیں ۲۵ ستمبر ۱۹۵۷ء کو ملک خادم حسین صاحب پرائیویٹ سیکرٹڑی سے فرمایا کہ : ہ اس سکیم کی تفصیل جلسہ سالانہ پر بتائی جائے گی۔مختصر یہ ہے کہ ایسے واقفین زندگی اپنا اپنا کام کریں گے اور اس طرح اپنا ذریعہ معاش پیدا کریں گے۔ان کے لیے حلقے مقرر کر دیئے جائیں گے۔وہاں اپنے سکول کھولیں گے۔بچوں سے فیس وصول کریں گے زمین کا شت کرائیں گے۔ہماری طرف سے ان کو اتنی مدد ہو گی کہ علاقہ کے احمدی احباب ان سے تعاون کریں اور ایک ایک دو دو کنال زمین کا بند وبست کرا دیں یا اور مناسب امداد کریں۔ایسے واقفین گویا اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے اور بزرگ فقراء کی طرح۔۔۔۔۔تبلیغ کریں گے اور جہاں مقرر کیا جائے گا مستقل طور پر اپنا ڈیرہ ڈال دیں گے۔گویا سند پر بوجھ ڈالے بغیر تبلیغ کا کام ہوتا ہے گا۔ہے له الفضل یکم اگست ۱۹۵۷ د مستان سے ریکارڈ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری