تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 491
حضرت مصلح موعود نے جلسہ سالانہ ۱۹۵۶ء پر یہ کا حضرت مصلح موعود کی تاریخی تقاری کا جماعتی امتحان علان فرمایا تھا کہ خان سے متقی عضو کی تازہ تقاریہ کا انتان لیا جائے گا۔چنانچہ اس سال اپریل ۱۹۵۷ء میں یہ معرکہ آراء لیکچر الشرکة الاسلامیہ ربوده نے شائع کر دیئے جس کے بعد حضور کی منظوری سے مورخہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۵۷ء کو حضور کی جلسہ سالانہ ۱۹۵۶ء کی ہر دو تقاریر یعنی (1) خلافت حقہ اسلامیہ (۲) نظام آسمانی کی مخالفت اور اس کا پس منظر کا امتحان لیا گیا۔کامیابی کا معیارہ انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کے لیے کم از کم چالیس نمبر ہستورات الحسینہ اماء اللہ) کے لیے پینتیس نمبر اور لڑکیوں (ناصرات الاحمدیہ) اور اطفال کے لیے تین نمبر مقرر تھا۔گل ۲۷۴۶ را افراد نے امتحان میں حصہ لیا۔جن میں سے ۲۰۶۲ کامیاب ہوئے۔مولانا ابو العطار صاحب جالندھری نے ۲۶ ستمبر ۱۹۵۷ء کو بذریعہ الفضل اس امتحان کا تفصیلی نتیجہ شائع فرمایا اور اس کے شروع میں اعلان فرمایا کہ اس امتحان میں انعامات کے سخت مندرجہ ذیل حضرات قرار پائے۔مرزا برکت علی صاحب آن قادیان پشاور ۹۰ اول انصار الله شیخ عبدالقادر صاحب مربی لاہور ڈاکٹر محمد الدین صاحب۔چکوال خدام الاحمدية ۹۴ دوم ۹۲ سوم چوہدری نذیر احمد صاحب سیالکوٹی حال لاہور چھاؤنی ۹۷/۰ اول مولوی محمد سلطان صاحب اکبر چک ۳۵ جنوبی ضلع سرگو دیا ۹۲ صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب۔ربوہ محمودہ بیگم احمد صاحب کراچی لجنہ اماء الله عائشہ محمودہ بیگم کیمپور ۹۰ 94۔۔۹۱ مبارکہ شوکت اہلیہ حافظ قدرت اللہ صاحب مبلغ ہالینڈ ر باوه قدیمیہ صاحبہ بنت چوہدری عبد الحمید روہڑی ناصرا الاحمدیہ امة الحميد بنت چو ہندی احمد جان صاحب را ولپنڈی طاہرہ نسرین صاحبه فاروقی جماعت دوازدهم پشاور مرکزہ کی طرف سے ان حضرات کو انعامات بھی دیئے گئے 95%/6۔AA ۸۰ (حاشیہ اگلے صفحہ پر ) دوم سوم اقل دوم سوم اول دوم سوم