تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 489
ان کے ساتھ اور لوگ مل گئے۔اور ان سب نے اس ملک میں دین اسلام کی بنیا دیں مضبوط کیں۔اب چاہے ان کی اولاد خراب ہو گئی ہے (اللہ تعالیٰ ہماری اولادوں کو بچائے کہ وہ خراب نہ ہوں) لیکن ان کی اولادوں کی خرابی ان کے اختیار میں نہیں تھی۔انہوں نے تو جس حد تک ہو سکا دین کی خدمت کی۔بلکہ جہاں تک ملی اولاد کا تعلق ہے مولانا محمد قاسم صاحب کی اولا د پھر بھی دوسروں سے بہت بہتر ہے۔۔۔۔۔۔ہماری جماعت کے لیے اس ٹک میں بھی ابھی صوفیاء کے طریق پر کام کرنے کا موقعہ ہے۔جیسا کہ دیو بند کے قیام کے زمانہ میں ظاہر ی آبادی تو بہت تھی۔لیکن روحانی آبادی کم ہو گئی تھی روحانی آبادی کی کمی کی وجہ سے مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی نے دیکھ لیا تھا کہ یہاں اب روحانی نسل جار ی کرنی چاہیئے تاکہ یہ علاقہ اسلام اور روحانیت کے نور سے منور ہو جائے۔چنانچہ انہوں نے بڑا کام کیا۔جیسے ان کے پیر حضرت سید احمد صاحب بریلوی نے بڑا کام کیا تھا اور جیسے ان کے ساتھی حضرت اسماعیل صاحب شہید کے بزرگ اعلی حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی نے بڑا کام کیا تھا۔یہ سارے کے سارے لوگ اپنے زمانہ کے لیے اسوۂ حسنہ ہیں۔درحقیقت ہر زمانہ کا فرستادہ اور خدا تعالیٰ کا مقرب بندہ اپنے زمانہ کے لیے اسوہ حسنہ ہوتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے زمانہ کے لیے اسوئہ حسنہ تھے ابھائی انبیاء اپنے زمانہ کے لیے اسوہ حسنہ تھے۔سید احمد صاحب مر مہندی اپنے زمانہ کے لیے اسوۂ حسنہ تھے۔حضرت شاہ ولی اللہ شاہ صاحب دہلوی اپنے زمانہ کے لیے اسوہ حسنہ تھے۔اور حضرت سید احمد صاحب بریلوی اپنے زمانہ کے لیے اسوۂ حسنہ تھے۔پھر دیو بند کے جو بزرگ تھے۔وہ اپنے زمانہ کے لیے اسوۂ حسنہ تھے۔انہوں نے اپنے پیچھے ایک نیک ذکر دنیا میں چھوڑا ہے ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے اسے یادر رکھنا چاہیئے اور اس کی نقل کرنی چاہیئے۔سوہ آج بھی زمانہ ہے ہمارے وہ نوجوان جن میں اس قربانی کا مادہ ہو کہ وہ اپنے گھر بار سے علیحدہ رہ سکیں۔بے وطنی میں ایک نیا وطن بنائیں اور پھر آہستہ آہستہ اس کے ذریعہ سے تمام علاقہ میں نور اسلام اور نور ایمان پھیلائیں اپنے آپ کو اس غرض کے لیے وقف کریں۔میرے نزدیک یہ کام بالکل ناممکن نہیں۔بلکہ ایک سکیم میرے ذہن میں آرہی ہے۔اگر ایسے نوجوان تیار ہوں۔جو اپنی زندگیاں تحریک جدید کو نہیں بلکہ میرے سامنے وقف کریں اور میری ہدایت کے ماتحت کام کریں تو میں سمجھتا ہوں کہ