تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 439
۴۲۳ انٹر نیشنل کورٹ کے حج چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے نیو یارک سے اس اجتماع کے لیے جور پیغام بھجوایا ہے وہ اس میں پڑھ کر سنایا گیا۔اور سلسلہ احمدیہ کے موجودہ روحانی لیڈر (حضرت) مرزا بشیرالدین محمود احمد (صاحب) کا پیغام بھی سنایا گیا جو آپ نے پاکستان سے بھجوایا تھا۔پیغام کا خلاصہ یہ تھا کہ ہندوستان میں سب سے پہلے مسلمان مالا بار میں آباد ہوئے اس لیے آپ لوگوں کو چاہیئے کہ آپ کبھی بھی ہمت نہ ہاریں اور ایک دفعہ پھر اپنے ملک میں اسلام کا جھنڈا لہرا دیں۔مسٹر محمد کریم الہ ایڈ یر - آزا د لو جوان اور مولوی محمد سلیم (صاحب) فاضل مبلغ کلکتہ نے علی الترتیب انگلش اور اردو میں ایک ایک تقریر کی۔۷ ار مارچ کے اجتماع میں مولوی عبداللہ (صاحب) اپنے اسے احمد یہ مشنری نے بھی صدارت کی مسٹر محمد کریم اللہ صاحب مولوی محمد اسماعیل رفاضل وکیل با نیکوٹ یادگیر ) اور حضرت صاحبزادہ مرزا سیم احمد صاحب نے تقریریں کیں۔لوگ کثیر تعداد میں اس اجتماع میں شامل ہوئے پہلے فروری ۱۹۵۷ ء کو قادیان میں جلسہ سیرت قادیان میں جلسہ سیرت پیشوایان مذاہب پیشوایان مذاہب منقد ہوا۔صدارت سردار د هر مانند سنگھ صاحب پر نسپل سکھ مشتری کالج امرتسر نے کی اور درج ذیل مقررین نے طلبہ خطاب کیا۔۱- ولی الدین احمد صاحب حیدر آبادی میتعلم مدرسہ احمدیہ (سیرت ناتمه بدهد) - ۲ - سردار رام سنگھ صاحب ایم اے بھائی رشتری گورو نانک کی سیرت) نے اپنی تقریر میں ۱۹۴۷ء کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ " اس وقت بھی قادیان کی پوتر دھرتی میں انسانیت کو قائم رکھا گیا اور اس جماعت نے قتل وغارت اور لوٹ کھسوٹ میں حصہ نہ لیا " ۲ - پنڈت گورکھ نا تو صاحب صدر گورداسپور ضلع کانگریس - ۲ - مردار مرین سنگر صاحب ۴ نے اپنی تقریر میں حضرت بانی رسول اکرم اور بانی سلسلہ احمدیہ کے بارہ میں تعریفی کلمات کہے۔که بحواله بدر قادیان ۲۵ اپریل ۱۹۵۷ء ص ۶