تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 438 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 438

۴۲۳ دوران تقریر میں جماعت کے تعمیری اور دینی کارناموں کا وضاحت سے ذکر فرماتے ہوئے اس امر کا تفصیل سے جائزہ لیا کہ جماعت احمدیہ نے مغرب کے ممالک اور افریقہ کے غیر ترقی یافتہ علاقوں میں کس طرح اسلام کا بول بالا کیا ہے اور کس طرح ان علاقوں میں بیت الذکر کی تعمیر اور دنیا کے مختلف بڑی بڑی نہ بانوں میں قرآن کریم کی اشاعت کا کام جماعت احمدیہ نے انجام دیا ہے۔اور کسی طرح اپنے کارناموں اور اسلام کی سچائی کو دیگر اور ان پر ثابت کر رہی ہے۔پہلے اسی طرح کیرالہ کے مشہور اختبار ماتہ بھولی کا الیکٹ نے ۲۰ مارچ ۱۹۵۷ ء کی اشاعت میں کیرالہ کا نفرنس کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا سن آل کیرالہ احمدیہ کا نفرنس کا چوتھا اجتماع کا لیکٹ ٹاؤن ہال نہیں ۱۶ ۷ار مارچ ، ۱۹۵ د کو منعقد ہوا۔بانی جماعت احمدیہ کے پوتے اور موجوده امام جماعت احمد به (حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کے صاحبزادہ مرزا د سیم احمد (صاحب) مشرقی پنجاب) نے 14 مارچ ۱۹۵۷ء کے جلسہ کی صدارت فرمائی۔صدر صاحب کی خدمت میں آل کیرالہ احمدی مسلمانوں کی طرف سے ایک سپاسنامہ پیش کیا گیا جس کے جواب میں مرزا دسیم احمد (صاحب) نے جو تقریہ فرمائی اس میں سپاسنامہ پیش کر نیکا شکریہ ادا کیا اور جماعت احمدیہ کی غرض و غایت بیان کی اور اس کے حصول کی کوشش کرنے کی تلقین کی۔نظریہ کرتے ہوئے آپ نے بنایا کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت عوام الناس کی یہ حالت تھی کہ وہ جاہل اور جانوروں کی طرح تھے مگر حضرت رسول اللہ صل اللہ علی وسلم نے اُن کی اچھی تربیت کر کے ان کو عالم با اخلاق اور باخدا انسان بنا دیا۔- احمدیت کی غرض وغایت تجدید اسلام ہے ، رواداری ، امانت پسچ بولنا ، اخوت وغیره جیسے اسلام کے اخلاقی قوانین کی آجکل ایسی پابندی نہیں کی جاتی۔میں طرح اس کی پابندی کی جانی چاہیئے۔یہ اخلاقی گراوٹ ایک بہت بڑی مصیبت بنی ہوئی ہے اس کو بدلنا ضروری اور لابدی ہے۔ہماری عزم نہ غایت صحیح اسلامی تعلیم کو قائم کرنا ہے اگر یہ ذمہ داری بنا ہی گئی۔تو ایک امن کی فضا قائم ہو جائے گی اس غرض وغایت کو پورا کرنے کیلئے سب کا دلی تعاون ضروری ہے۔اخبار انگارے حیدرآباد دکن۔بحوالہ بدر ۱۸ار اپریل ۱۹۵۷ء مرے۔