تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 432
کا موضوع خطاب تھا " امت مسلمہ میں کس طرح سے ہوش اور حرکت عمل پیدا ہوسکتی ہے ؟ حاضرین کی تعداد چھ سو کے قریب تھی سیہ جماعت احمدیہ انڈونیشیا کی سالانہ کا نفرنس کئی مشکلات کی وجہ سے صرف ایک دن کے لیے ہوئی۔سالانہ کانفرنس کی کارروائی پراہ بجے بعد نماز مغرب و عشاء شروع ہوئی۔تلادت A قرآن کریم کے بعد سید شاہ محمد صاحب نے دعا کرائی۔چونکہ کانفرنس کی تیاری کے سلسلہ میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اس لیے دعا کے دوران احباب جماعت پر رقت طاری رہی۔دعا کے بعد راڈین ہدایت صاحب صدر جماعت احمدیہ انڈونیشیا نے تقریر کی۔اس کے بعد جناب شاہ محمد صاحب نے حضرت اقدس مصلح موعود کا پیغام پڑھ کر سنایا جس کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے۔انڈو نیشین بھائیو۔پاکستان میں دو ہفتہ کے اندر سالانہ جلسہ ہو رہا ہے۔آپ لوگ بھی اپنی کانفرنس منعقد کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ اسے بابر کت کرتے ہوئے سارے ملک میں سچائی کے پھیلانے کا ذریعہ بنا دے۔آپ کا ملک بڑا ہے لیکن جماعت ابھی چھوٹی ہے میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ترقی اور طاقت دے کہ تقویٰ کے راستوں پر چلائے تا کہ یہ خود منور ہو کر دوسرے ممالک کو بھی منور کر دے۔اللہ تعالیٰ آپ کے سیاسی اور روحانی لیڈروں کی اس رنگ میں رہنمائی فرمائے کہ وہ سچائی اور انصاف کے راستوں کو بھی ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔اللہ تعالٰی آپ کا مدد گاسو ہو۔آپ لوگ اس پہ بھروسہ رکھتے ہوئے ہمیشہ دعاؤں میں لگے رہیں وہ بھی آپ کو کبھی نہیں چھو گا حضور کے پیغام کے بعد مکرم جناب سید شاہ محمد صاحب نے خطاب کیا جس میں خلافت سے والہانہ تعلق کی تحریک کی۔بیچوں اور نوجوانوں کی تربیت پر زور دیا اور چندہ جات کی ادائیگی کی مؤثر تلقین کی نیز فرمایا کہ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ خدمت دین کے لیے زندگی وقف کر یں۔اس کے بعد آپ نے جماعت کی سالِ رواں کی مساعی پیش کی۔جماعت کو اختلاف سے بچنے کی تعین کی پھر حضور کا پیغام جماعت کے نمائندوں میں تقسیم کرایا۔بعدازاں خلافت سے د بستگی کا پر دلبستن سله الفضل - در فروری ۱۹۵۷ء صت خلاصہ رپورٹ میاں عبد الحی صاحب الفضل ، اراپریل ۱۹۵۷ء (ترجمه از انگریزی)