تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 361 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 361

۳۴۶ کا مولاناعبدالمجید سالک کا لیکچر ضروری استاد کے دوسرے ہفتے میں علم الاسلام والی کے زیر اہتمام کالج میں نظری می مقابلے ہوئے جن میں بنتا۔کے مختلف کا لجوں کی ٹیموں نے حصہ لیا۔اس موقع پر ملک کے نامور ادیبوں اور صحافیوں میں سے جناب نازش منوی صاحب ، مکرم چوہدری عبدالرشید صاحب تبسم اور مولانا عبدالمجید صاحب سالک بھی یہ بوہ تشریف لائے اور منصفی کے فرائض سرانجام دیئے یہ مولانا سالک صاحب نے اور فروری کو تعلیم الاسلام کالج میں " میری شاعری کا ارتقاء کے موضوع پر خطاب کیا جس میں نوجوان ادباء و شعراء کواپنی تحریہ اور کلام میں منگلنگی پیدا کرنے کی طرف توجہ دلائی۔مولانا نے حاضرین کو اپنے کلام سے محفوظ کیا ہے دیوبندی تحریک کی شارخ خیلی است اگر ایک سابق حجزل کھے ایک دعوت مبالا اور المنیر کا حیرت انگیز رد عمل سیکرٹری سیلی کو میری نے ست 19ء میں منفی بیات دیا کہ :۔" خدائے واحد لا نشریک کی قسم کھا کہ نہیں کی جھوٹی قسم کھانا لعنتی کا کام ہے، قطعی اور یقینی طور پر کہتا ہوں کہ مجلس احرار کی مرزائیت یا تا ریا نیت کے خلاف تمام تر جدو جہد اور قادیان کے خلاف بہ سب پراپیگنڈ ا محض مسلمانوں سے چندہ وصول کرنے اور کونسل کی ممبری کے لیے اُن سے دوسٹ حاصل کرنے کے لیے ہے۔۔۔۔۔۔۔میں نے خود احرار کے بڑے بڑے لیڈروں کو بار ہا یہ کہتے سنا کہ حصولِ مقصد کے لیے قادیا نیوں کے خلاف پراپیگنڈا ایک ایسا ہتھیار ہمارے ہاتھ میں ہے۔جس سے ہم تمام مخالفتوں کو دور کر سکتے ہیں۔اور ہر قسم کی مالی یا انتخابی مشکل اس سے حل ہو سکتی ہے، اسے ربوہ سے متصل شہر چنیوٹ کا ایک طالب سلم منظور احمد ٹنڈو الہ یار (سندھ) کے دیوبندی مدرسہ دار العلوم میں پڑھنے کے لیے گیا۔شور میں فارغ التحصیل ہوا۔190 میں اس نے جامعہ عربیہ کے نام سے چنیوٹ میں ایک مدرسہ کھولا۔اور اسی سال سے حصولِ مقصد کے لیے احرار کے قدیم تر بے له الفضل ۱۲ جنوری ۱۹۵۶ ۶ صبا : له الفضل ۱۴ فروری ۱۹۵۶ء ص : سے زمیندار ۲۸ اگست ۱۹۳۷ ۶ بحواله الفضل ۳۰ راگست ۱۹۳۶ء ، تاریخ احمدیت جلدی ست ۲ و ۴۲۵