تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 362 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 362

کے استعمال کا فیصلہ کر کے ملک کے مختلف حصوں میں احمدیت کے خلاف تقاریر کا سلسلہ شروع کر دیا۔اور ۱۹۵۶ء کے شروع میں حضرت مصلح موعود کو دعوت مبالہ دی۔اور اسے پبلسٹی دینے کے لیے لائلپور کے مہفت روزہ المنیر کو یہ دعوت سیجوا دی۔اور ایڈیٹر سے اُسے شائع کرنے کی عاجزانہ درخواست کی۔THE DOUBLE DEALER PAGE:19 BY MANZOOR AHMAD PUBLISHERS: ADARA MARKAZIA DAWAT-O-IRSHAD CHINIOT PAKISTAN 1981 کہ اگرت ۱۹۳۵ء کا واقعہ سے یعنی اس زمانے کا جبکہ منظور اہم نوٹی کی عمر چار سال تھی اگر این اخت مام سعود نے احریری لیڈروں کو مباہلے کیلئے للکارا۔چنانچہ جنرل سیکریٹری احترام میر مظہر علی اظہر نے چنیوٹ میں نظریہ کرتے ہوئے کہا : ع یں نے قادیان جا کر کہا تھا کہ مسالہ قادیان میں ہونا چاہیے اور مرزا صاحب کی صداقت پر ہونا چاہیے اور مرزا محمود نے تسلیم کر لیا ہے۔رابلد مجاہد الامور اور نومبر ۱۹۳۵در من لحواله الفضل ۱۰ نومبر ۱۹۳۵ء مت) اسی طرح سید فیض الحسن صاحب سجادہ نشیں آلو بہار شریف صدر مجلس احرار پنجاب نے بھی اپنی نفسہ یہ چنیوٹ میں کہا کہ حن مرزا محمو نے مجلس احرار کو اس لیے دیا ہے کہ ا مجرت مرزا کی نبوت پر قادیان اگر مسالہ کردہ علمائے احرار نے محمود کے اس میسیلینج کو قبول کر لیا ہے ؛ رایضا) لیکن احراری لیڈروں نے حیلوں بہانوں سے مباہلہ سے راہ فرار اختیار کر لی۔جس پر مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا :۔م افزاری اب کھلے لفظوں میں کہتے ہیں کہ قادیانی گردہ کے ساتھ مسائل کا فیضا۔علماء کی طرف سے ہو چکا۔ہمارا مقابلہ ان کے ساتھ سیاسی رنگ میں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔مگر ہم دیکھتے ہیں کو احرار قادیان کے دھوکے میں آجاتے ہیں۔اگر ایسا نہ ہوتا تو مباہلے کی دعوت قبول نہ کرتے۔خیر گذشته را صلوات آئنده را احتیاط راہل حدیث ۲۹ نومبر ۱۹۳۵ء ص ۱۳) اخبار احسان ریکم نومبر ۱۹۳۵ ء نے لکھا :۔مباللہ کا نام منکر را پنجابیان احرار کے بدن پہ رعشہ طاری ہو جاتا ہے۔