تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 335 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 335

۳۳۵ جوشیلے واقع ہوئے تھے ویسے ہی طبیعت کے لحاظ سے بھی بڑے جوشیلے تھے۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ شوری ہو رہی تھی۔ایجنڈا میں یہ تجویز تھی کہ سب احمدی ڈاڑھی رکھا کریں اور جو ڈاڑھی نہ رکھیں ان کی وصیت منسوخ کر دی جائے۔مجھے یاد نہیں کہ یہ تجویز پاس ہوئی تھی یا نہیں بہر حال جب یہ تجویز پیش ہوئی تو دوست محمد حجانہ بڑے جوش سے کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے میں اپنی ڈاڑھی منڈوا دوں گا کیونکہ اس بارہ میں ببر بر داشت نہیں کر سکتا۔میں نے تو صرف اس لیے ڈاڑھی رکھی تھی کہ خدا اور اس کا رسول اس کی ہدایت دیتا ہے کسی کے جبر کی وجہ سے نہیں رکھی تھی۔اب اگر کوئی شخص مجھے اس بات پر مجبور کرنا چاہتا ہے تو میں اسے برداشت نہیں کر سکتا ہیں نے کہا آپ ڈاڑھی چھوڑ کر سر بھی منڈدا دیں ہمیں اس کی کیا پر داہ ہو سکتی ہے۔اس پر وہ رو پڑے اور کہنے لگے مجھے معاف کر دیا جائے مجھ سے غلطی ہو گئی ہے۔اس طرح ان کی طبیعت اتنی ہو شیلی تھی کہ اپنے بیٹے کی ذراسی غلطی پر کہ دیتے کہ میں اسے عاق کرتا ہوں کیونکہ یہ احمدیت کے کاموں میں پورے جوش سے حصہ نہیں لیتا۔اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے اور انہیں اگلے جہان میں بھی بڑی عزت بخشے۔وہ خود ایک معمولی زمیندار تھے لیکن بڑے بڑے نوابوں اور ہر ڈساء سے ان کے تعلقات تھے جب میں پچھلے سال یورپ کے سفر پر گیا تو ان کے علاقہ کا ایک رہیں جو گورنمنٹ کا سیکرٹری تھا اس نے مجھے نوٹس دیا کہ آپ کی جماعت تبلیغ کر رہی ہے میں سے فساد کا ڈر ہے ، انہیں دنوں اس سیکرٹری سے کوئی غلطی ہوئی تھی جس پر وزیر اعظم نے اسے معطل کر دیا تھا۔چونکہ اس افسر کا میرے ساتھ اور میرے بچوں کے ساتھ پرانا تعلق تھا۔دوست محمد صاحب لاہور آئے ہوئے تھے مجھے ملے تو میں نے ان سے کہا کہ اپنے دوست کے بیٹے کو کہہ دیں کہ اس نے اس نوٹس کے دینے میں غلطی کی ہے شاید یہ کھو کر جو اس کو لگی ہے اس وجہ سے لگی ہے۔اب وہ تو بہ کرے تا کہ اللہ تعالٰی اس کے حصو کہ معاف کرے۔مجھے علم نہیں کہ انہوں نے میرا یہ پیغام اسے پہنچا یا یا نہیں کیونکہ بعد میں وہ خود مجھے نہیں ملے لیکن دہ سیکر روی خود مجھے یہاں ملنے کے لیے آئے پہلے لاہور میں وہ ہمارے خاندان کے ایک فرد کے پاس گئے اور کہنے لگے میں ربوہ جانا چاہتا ہوں اگر آپ اپنا کوئی آدمی میرے ساتھ بھیج دیں تو اچھا ہے پچنا نچہ وہ دائر و احمد کے ساتھ یہاں آئے ملاقات کے دوران میں حبس خلوص کا انہوں نے اظہار کیا اس سے معلوم ہوتا تھا کہ ان کے دل کی صفائی ہو گئی ہے۔ممکن ہے وہ خود سی نادم ہوئے ہوں اور ندامت